اپ ڈیٹ 17 جنوری 2026 10:46am

وائٹ ہاؤس نے غزہ کا انتظام سنبھالنے والے بورڈ ممبران کے ناموں کا اعلان کردیا

وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے جمعے کو نام نہاد ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ کی عارضی حکمرانی کی نگرانی کرے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں گزشتہ برس اکتوبر میں نافذ ہونے والی ایک نازک جنگ بندی کے باوجود مہلک تشدد جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق میجر جنرل جیسپر جیفرز کو عالمی استحکام فورس کے کمانڈر مقرر کردیا گیا۔ بورڈ آف پیس میں مارکوروبیو, اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ ٹونی بلیئر، مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام کو بورڈ آف پیس کے لیے سینئر مشیر مقرر کردیا گیا۔

اکتوبر میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ٹرمپ کے منصوبے پر اتفاق کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت غزہ کی حکمرانی ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک ادارے کے سپرد کی جائے گی، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی نام نہاد بورڈ آف پیس کرے گا، اور یہ انتظام ایک عبوری مدت کے لیے ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق اس بورڈ میں نجی ایکویٹی کے ایگزیکٹو اور ارب پتی مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، اور ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل بھی شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے سابق مشرق وسطیٰ ایلچی نیکولے ملادینوف کو غزہ کے لیے ہائی ریپریزنٹیٹو کا کردار سونپا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے بیان میں بورڈ کے ہر رکن کی ذمہ داریوں کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

غزہ میں اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ اکتوبر میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 440 سے زائد فلسطینی، جن میں 100 سے زیادہ بچے شامل ہیں، اور تین اسرائیلی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

2023 کے اواخر سے غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، شدید غذائی بحران پیدا ہوا ہے اور غزہ کی پوری آبادی اندرونی طور پر بے گھر ہو چکی ہے۔ متعدد انسانی حقوق کے ماہرین، اسکالرز اور اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نسل کشی کے مترادف ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کا یہی مؤقف رہا ہے کہ اس نے اپنے دفاع میں کارروائی کی، جب حماس کی قیادت میں عسکریت پسندوں نے اکتوبر 2023 میں حملہ کر کے 1,200 افراد کو ہلاک کیا اور 250 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب میں کہا کہ عالمی قوانین کے تحت مسئلہ فلسطین کا حل ضروری ہے۔ بدقسمتی سے آج تک مسئلہ فلسطین اور کشمیر کا حل نہیں نکالا جاسکا۔

انہوں نے کہا تمام تنازعات کا پر امن حل ہونا چاہیے۔ تنازعات کا حل اقوام متحدہ چارٹر کا بھی امتحان ہے۔ تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ صائمہ سلیم نے کہا قراردادیں یاد دلاتی ہیں کہ ڈائیلاگ ضروری ہے۔ دنیا قانون کی حکمرانی کی بات کر رہی ہے۔

Read Comments