ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے کسی نے مجھے قائل نہیں کیا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں انہیں کسی نے قائل نہیں کیا بلکہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ عرب ممالک یا اسرائیلی قیادت نے انہیں ایران پر حملے سے روکنے میں کوئی کردار ادا کیا۔
میڈیا بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا عرب اور اسرائیلی حکام نے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے پر آمادہ کیا تھا؟
اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔
واضح رہے کہ امریکی اور برطانوی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی حملے کا فیصلہ آخری وقت میں تبدیل کیا۔
برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ کے مطابق یہ تبدیلی عرب خلیجی ممالک اور اسرائیلی وزیرِاعظم کے مشورے کے بعد سامنے آئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کو ان کے مشیروں نے آگاہ کیا کہ ایران پر بڑے پیمانے کا حملہ بھی ایرانی حکومت کو گرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا، بلکہ اس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
اسی دوران ’فاکس نیوز‘ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کے تاثر کو تقویت ملی۔
رپورٹ کے مطابق عرب خلیجی ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان ممالک کو خدشہ تھا کہ ایران پر حملہ یا وہاں سیاسی نظام کا انہدام پورے خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دے گا، جس کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
عرب خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج اور صدر ٹرمپ کی جانب سے بار بار فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد سعودی عرب، قطر اور عمان فوری طور پر متحرک ہوئے۔
سعودی عرب نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی راستہ اختیار نہ کرے، جبکہ قطر اور عمان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرانے پر توجہ مرکوز کی۔
بدھ کے روز جب یہ اشارے سامنے آئے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے منقطع ہو چکے ہیں، تو خلیجی ممالک نے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دیں۔
انہیں خدشہ تھا کہ کسی بھی وقت حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور فوجی تصادم شروع ہو سکتا ہے۔
خلیجی ریاستوں کو یہ اندیشہ بھی لاحق تھا کہ ایران پر امریکی حملے سے تیل کی عالمی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آئے گا، جس سے نہ صرف عالمی معیشت متاثر ہو گی بلکہ خلیجی ممالک کی بطور محفوظ سرمایہ کاری اور تجارتی مراکز ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کا خطرہ بھی موجود ہے۔
ماضی کے واقعات ان خدشات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ 2019 میں یمن میں ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس سے تیل کی پیداوار عارضی طور پر متاثر ہوئی۔
گزشتہ برس بھی ایران نے ایک امریکی حملے کے جواب میں قطر میں واقع العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جو امریکی فوج کا ایک اہم اڈہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک ایران میں اچانک نظام کی تبدیلی یا انہدام سے خاص طور پر خوف زدہ ہیں۔
عراق پر 2003 میں امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والا انتشار آج بھی خلیجی دارالحکومتوں کے ذہنوں میں تازہ ہے، جہاں خانہ جنگی، شدت پسند تنظیموں کے عروج اور طویل المدتی عدم استحکام نے پورے خطے کو متاثر کیا تھا۔
قطر، کویت اور عمان ایران کے ساتھ بقائے باہمی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی، ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات رکھتا ہے۔
سعودی عرب اور ایران اگرچہ تاریخی طور پر حریف رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں دونوں نے کشیدگی کم رکھنے اور رابطے بحال رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
سعودی عرب خطے میں عدم استحکام سے خاص طور پر گریز کا خواہاں ہے کیونکہ وہ اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے اور سیاحت کے فروغ کے لیے بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن کے لیے علاقائی امن ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
سعودی وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد خطے میں استحکام اور سکون قائم رکھنا ہے تاکہ عوام کے بہتر مستقبل پر توجہ دی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ بعض خلیجی ممالک ایران میں بتدریج سیاسی اور پالیسی سطح پر تبدیلی کے خواہاں ہو سکتے ہیں، جیسے علاقائی کشیدگی میں کمی یا پالیسیوں میں نرمی، تاہم وہ اچانک فوجی مداخلت یا زبردستی نظام کی تبدیلی کو پورے خطے کے لیے نہایت خطرناک سمجھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی بروقت سفارتی کوششوں نے فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کو ٹال دیا ہے، تاہم خطے کی صورت حال اب بھی نازک بنی ہوئی ہے۔