اسلام آباد میں ہزاروں درختوں کی کٹائی، معاملہ کیا ہے؟
اسلام آباد میں ہزاروں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کے بعد اتحادی اور مخالف سیاسی جماعتیں بھی وفاقی حکومت پر تنقید کر رہی ہیں۔ تازہ پیشرفت کے مطابق عدالت نے شہری انتظامیہ کو مزید درختوں کی کٹائی سے روک دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو آئندہ سماعت تک وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی روکنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم محمد نوید نامی شہری کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔
اس کیس میں درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی حدود میں قواعد و ضوابط کے خلاف بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ماحولیاتی تبدیلیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
عدالت نے متعلقہ وزارت اور اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور کیس کی مزید سماعت دو فروری تک ملتوی کر دی ہے۔
معاملہ کیا ہے؟
اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ دسمبر 2025 کے آخر میں سامنے آیا تھا، جب شہر کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر درخت کاٹے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔
اِن علاقوں میں شکرپڑیاں، لوک ورسا، نیشنل میوزیم کا احاطہ، اسلام آباد ایکسپریس وے (ایچ ایٹ) اور مارگلہ انکلیو لنک روڈ کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔
اسلام آباد کے مختلف مقامات پر شہریوں نے اس معاملے پر کٹے ہوئے درختوں کے ساتھ کھڑے ہو کر احتجاج بھی کیا۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹرینڈ بھی بنا جس میں صارفین نے حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
درختوں کی کٹائی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعلقات میں بھی تناؤ دیکھنے میں آیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے درختوں کی کٹائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پارٹی اراکین کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائیں۔
سابق وزیرِ ماحولیات سینیٹر شیری رحمان نے درختوں کی کٹائی کو ’ماحولیاتی قتل عام‘ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ عالمی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ اس کے جواب میں وفاقی حکومت نے مؤقف اپنایا کہ یہ مہم اسلام آباد کے شہریوں کو ’پولن الرجی‘ سے بچانے کے لیے ہے اور اس کا فیصلہ ماہرین کی سفارشات پر کیا گیا ہے۔
سی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ درختوں کی کٹائی میں پیپر ملبری (جنگلی شہتوت) کے درخت کاٹے گئے ہیں جو مضرِ صحت ہوتے ہیں۔
سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ماحولیات عرفان خان نیازی نے کہا کہ ہر سال ہزاروں افراد پیپر ملبری درخت سے پھیلنے والی پولن الرجی سے سانس کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کٹائی کا پہلا فیز 2024 میں شروع ہوا تھا، جس میں 12 ہزار درخت کاٹے گئے اور چالیس ہزار ماحول دوست درخت لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ شہری انتظامیہ کاٹے گئے ایک درخت کے بدلے موسمِ بہار میں تین درخت لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
دوسری جانب ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سرگرم عالمی تنظیم ورلڈ وائیڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے سی ڈی اے کے اس مؤقف کو مسترد کیا ہے۔
تنظیم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق کٹائی صرف الرجی پیدا کرنے والے درختوں تک محدود نہیں تھی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مقامی اور پرانے درخت بھی کاٹے گئے ہیں۔
بعض اراکینِ پارلیمنٹ نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنگلی شہتوت کے علاوہ دیگر مقامی اور قدیم درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ اسلام آباد کی خوبصورتی اس کے درخت ہیں اور نئے آباد علاقوں میں پہلے ہی درختوں کی کمی ہے۔
اسی طرح پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے درختوں کی کٹائی کے بجائے پولن الرجی کو ٹارگٹڈ طریقے سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
ان الزامات کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں کہا کہ جنگلی شہتوت کے علاوہ کسی اور درخت کی کٹائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے گرین بیلٹ ختم کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں جدید ٹیکنالوجی اور ماہرین کے جائزوں کو مدنظر رکھا گیا ہے البتہ کاٹے گئے 29 ہزار 115 درختوں کی جگہ آٹھ سے دس فٹ قد کے 40 ہزار سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق درختوں کی کٹائی سے شہر کا گرین زون کم ہو رہا ہے جو ہوا کی صفائی اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے حکومت کو ایک دستاویز میں جنگلی شہتوت کے سائنسی بنیادوں پر خاتمے کی تجویز پیش کی ہے۔
دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ پیپر ملبری کے نر اور مادہ درخت الگ ہوتے ہیں، اس لیے انتظامی حکمت عملی میں دونوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ ان درختوں کی اندھا دھند کٹائی سے مقامی درخت بھی غیر ارادی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اچانک اور بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی سے زیرِ زمین نباتات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور جنگلی حیات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس لیے تمام اقدامات ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور شفاف نگرانی کے تحت کیے جانے چاہئیں۔