شائع 15 جنوری 2026 01:36pm

ایران پر حملے کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی کوئی اجازت نہیں: پاکستان

دوران بریفنگ پاکستان نے ایران کے خلاف کسی بھی ملک کی ممکنہ کارروائی میں اپنی فضائی حدود کے استعمال کے حوالے سے اپنا مؤقف دوبارہ واضح کر دیا ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی میں کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی کی پالیسی کے مطابق، پاکستان نے نہ ماضی میں ایسی کوئی اجازت دی اور نہ ہی مستقبل میں کسی ملک کو اپنی فضائی حدود اپنے کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔

ترجمان نے یاد دلایا کہ جون 2025 میں جب امریکا نے ایران پر حملہ کیا تھا، پاکستان کی فضائی حدود اس حملے کے لیے استعمال نہیں کی گئی تھیں۔

دفترِ خارجہ کے مطابق ایران میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بڑی تعداد میں طلبہ گوادر پہنچ چکے ہیں اور ایران سے لوٹنے والے طلبہ کی سہولت کاری کے لیے مکمل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بدھ کے روز 54 طلبہ واپس آئے جبکہ اس سے قبل دو درجن طلبہ ایران سے وطن واپس لوٹے۔ افغانستان میں طلبہ کی واپسی کے لیے پاکستانی سفارت خانہ فعال ہے۔

ترجمان نے کہا کہ واپس آنے والے طلبہ کی تعداد اور تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

ترجمان نے اس موقع پر دیگر اہم امور پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عرب اسلامی ممالک کے گروپ میں شریک ہے اور غزہ امن عمل کے دوسرے مرحلے کا اعلان دیکھا ہے۔

تجارتی تعلقات کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ ہموار تجارتی تعلقات کا خواہشمند ہے اور ایران سے تجارت عالمی قوانین کے مطابق کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کے سلسلے میں مسلسل رابطے جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری مذاکرات میں پاکستان ماضی میں اپنا کردار ادا کر چکا ہے اور مستقبل میں بھی خطے میں استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ ایران کی صورتِحال پر نظر ہے، پاکستان مسئلے کا پُرامن حل چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے ایران جلد اپنے داخلی مسائل پر قابو پا لے گا اور حالات معمول کی طرف لوٹ آئیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے صومالیہ کی خود مختاری پر حملے کو بھی ناقابل قبول قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے اور پاکستان ایسے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔

بریفنگ میں خطے میں سفارتی روابط سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق وزیر اعظم کا امیر قطر کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس رابطے کو پاکستان اور قطر کے درمیان قریبی تعلقات کے تسلسل کا حصہ قرار دیا گیا۔

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اس وقت بحرین کے دورے پر ہیں۔ دورے کے دوران صدر زرداری کی بحرین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں دو طرفہ تعلقات، تعاون کے فروغ اور علاقائی امور پر بات چیت کی گئی۔

دفتر خارجہ کی بریفنگ میں مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان خطے میں استحکام، پرامن حل اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے، چاہے معاملہ ایران کی صورتحال ہو، عالمی امیگریشن پالیسیوں کا ہو یا دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کا۔

Read Comments