شائع 15 جنوری 2026 12:27pm

امریکا نے ایران پر حملہ کس کے دباؤ پر روکا؟

ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے چینی میں اس وقت کچھ کمی دیکھی جا رہی ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا واشنگٹن نے واقعی حملہ مؤخر کر دیا ہے یا یہ صرف عارضی پسپائی ہے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد خطے میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا خلیجی ممالک کی سفارت کاری نے امریکا کو وقتی طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے قطر میں واقع اپنے اہم فوجی اڈے العدید سے نکالے گئے فوجیوں کو واپس بیس پر بھیج دیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون نے نہ صرف فوجیوں کی واپسی کا فیصلہ کیا بلکہ بمبار طیاروں کو جاری کیا گیا الرٹ بھی عارضی طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اگرچہ یہ اقدامات کشیدگی میں کمی کی علامت سمجھے جا رہے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران پر حملے کا امکان مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے تمام آپشنز کو مسترد نہیں کیا اور واضح کیا ہے کہ آئندہ فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز آگے کیا قدم اٹھاتی ہیں۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ فوجی کمانڈرز کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف آپشنز اب بھی میز پر موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتِحال ماضی سے ملتی جلتی ہے۔

گزشتہ برس جون میں بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ دو ہفتوں میں فیصلہ کریں گے، تاہم بعد میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی حملے کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔

اسی وجہ سے موجودہ بیانات کو بعض حلقے حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اس وقت امریکی بحریہ کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں میزائل بردار تباہ کن جہاز اور کم از کم ایک آبدوز موجود ہے، جو کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ممکنہ اہداف میں ایران کا جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل تنصیبات، سائبر نیٹ ورک یا ایران کا اندرونی سیکیورٹی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب خلیجی ذرائع کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکا کو ایران پر حملے سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔

ان ممالک کا مؤقف ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا اور اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی سفارتی دباؤ کو امریکا کی حالیہ نرمی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس تنبیہ کے بعد خطے میں موجود امریکی اتحادی ممالک بھی صورتحال کو انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں۔

مجموعی طور پر ایران پر امریکی حملے کا خطرہ فی الحال کم ضرور ہوا ہے، مگر مکمل طور پر ٹلا نہیں۔

واشنگٹن کے حالیہ اقدامات کو وقتی وقفہ سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اصل فیصلہ آنے والے دنوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ایرانی ردعمل کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

Read Comments