شائع 15 جنوری 2026 11:34am

برف میں دبی عالمی طاقت کی چابی، گرین لینڈ پر دنیا کی نظر کیوں؟

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی نگاہیں گرین لینڈ پر رکھی ہوئی ہیں۔ وہ پہلے اپنے ارادوں کا اظہار یہ کہتے ہوئے کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ امریکی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ لیکن کیا گرین لینڈ کی برف سے ڈھکی زمین کے نیچے دبے اس قیمتی خزانے کے پیچھے بڑی وجہ ہے، جس کے بغیر ٹرمپ کا ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ کا خواب پورا ہونا ناممکن ہو جائے گا؟

گرین لینڈ کا حصول امریکا کے لیے قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے نہایت ضروری ہے کیونکہ آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی سرگرمیاں امریکا کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی سیاست اور جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں یہ دنیا کا ایک ایسا خطہ ہے جس پر بڑی طاقتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ کو حاصل کرنے سے متعلق بیان کو محض رئیل اسٹیٹ کی ڈیل کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ اسے چین کے معدنیاتی غلبے کو چیلنج کرنے اور روس کے خلاف اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط بنانے کی ایک بڑی جیو پولیٹیکل حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

گرین لینڈ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جس کا کل رقبہ تقریباً 2 اعشاریہ ایک 6 ملین مربع کلومیٹر ہے۔ یہ جزیرہ شمالی بحرِ اوقیانوس اور بحرِ منجمد شمالی کے درمیان واقع ہے۔

جغرافیائی طور پر یہ شمالی امریکا کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم سیاسی طور پر یہ ڈنمارک کے زیر انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے وسیع رقبے کے باوجود گرین لینڈ کی آبادی صرف تقریباً چھپن ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

دفاعی نقطۂ نظر سے گرین لینڈ کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ امریکا یہاں سے پورے آرکٹک ریجن پر نظر رکھ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سرد جنگ کے دور سے ہی امریکا کا گرین لینڈ میں ایک اہم فوجی اڈہ، تھول ایئر بیس، موجود ہے۔

اس بیس پر نصب جدید ریڈار نظام قطب شمالی کی سمت سے آنے والے کسی بھی ممکنہ روسی میزائل کا بروقت سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو امریکی دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قطب شمالی کی برف تیزی سے پگھلنے کے باعث نئے بحری راستے بھی کھل رہے ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے ایشیا، یورپ اور امریکا کے درمیان تجارتی سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔ ایسے میں جو ملک گرین لینڈ پر اثر و رسوخ رکھے گا، وہ ان ابھرتے ہوئے بحری راستوں پر بھی کنٹرول حاصل کر سکتا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔

گرین لینڈ کی زمین کا تقریباً اسی فیصد حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس برف کے نیچے نایاب معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ ان معدنیات میں نیوڈی میم، پراسیوڈی میم اور ٹربیئم شامل ہیں، جو اسمارٹ فونز، الیکٹرک گاڑیوں، ونڈ ٹربائنز اور جدید فوجی ہتھیاروں کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اس وقت ان نایاب معدنیات کی عالمی منڈی پر چین کی نمایاں اجارہ داری ہے، جسے امریکا کمزور کرنا چاہتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ گرین لینڈ میں تیل اور گیس کے ایسے ذخائر موجود ہیں جو پورے خطے کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر امریکا، روس اور چین تینوں اس جزیرے میں اپنی دلچسپی بڑھا رہے ہیں، اور گرین لینڈ کو مستقبل کی عالمی طاقت کی کشمکش کا ایک اہم میدان قرار دیا جا رہا ہے۔

Read Comments