شائع 14 جنوری 2026 11:18pm

امریکا سے کشیدگی پر درجنوں تجارتی جہاز ایرانی بندرگاہوں سے باہر رک گئے

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث درجنوں تجارتی جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں کی حدود سے باہر احتیاطاً لنگر ڈال دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق حالیہ دنوں میں درجنوں تجارتی جہاز ایرانی بندرگاہوں کے قریب مگر ان کی حدود سے باہر کھڑے ہو گئے ہیں۔ شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج اور امریکا کے ساتھ بڑھتے تناؤ کے باعث جہاز مالکان کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر احتیاط برت رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بندرگاہ کی حدود میں موجود جہاز کسی بھی فضائی حملے کی صورت میں زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، اسی لیے کئی جہازوں نے فاصلے پر لنگر ڈالنے کو ترجیح دی ہے۔ ایران اپنی درآمدات کے لیے کارگو، کنٹینر اور جنرل کارگو جہازوں پر انحصار کرتا ہے، جب کہ تیل کی برآمدات آئل ٹینکروں کے ذریعے کی جاتی ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے کہا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس بیان کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے بعض فوجی اہلکار واپس بلانے کی تصدیق بھی کی ہے۔

بحری انٹیلی جنس ادارے پول اسٹار گلوبل کے مطابق 6 سے 12 جنوری کے درمیان ایران کے خصوصی اقتصادی زون میں داخل ہونے والے آئل ٹینکروں کی تعداد ایک سے بڑھ کر 36 ہو گئی۔ یہ زون خلیج اور بحیرہ کیسپین کے ساحلی علاقوں میں ایران کے زیر انتظام سمندری پٹی پر مشتمل ہے۔

میرین ٹریفک کے ڈیٹا کے مطابق کم از کم 25 بلک کیریئرز بندر امام خمینی کے قریب کھڑے ہیں، جب کہ مزید 25 کنٹینر اور کارگو جہاز بندر عباس کے جنوب میں لنگر انداز ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے جون 2025 میں بندرعباس میں فضائی حملے کیے تھے، جب کہ اپریل میں ہونے والے پراسرار دھماکوں میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اس بندرگاہ کو حساس قرار دیا جا چکا ہے۔

امریکی بحریہ کے مطابق خلیج اور آبنائے ہرمز میں گزشتہ ہفتے کے دوران نیوی گیشن سسٹمز، بہ شمول جی پی ایس، میں مداخلت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے خطے میں سمندری نقل و حمل کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

Read Comments