اجیت دوول کابیان: نفرت انگیز سوچ کو ’تاریخ کے فرضی بدلے‘ کا لبادہ پہنایا جا رہا ہے، دفتر خارجہ
بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دووال کے حالیہ بیان پر پاکستان کی وزارت خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی زبان ذمہ دارانہ ریاستی طرزِ عمل کی عکاسی نہیں کرتی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس حوالے سے بدھ کو میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کے ریمارکس پر مبنی رپورٹس دیکھی گئی ہیں اور اس طرح کی بیان بازی ان عناصر کی جانب سے حیران کن نہیں جو اپنی نفرت انگیز سوچ کو تاریخ کے فرضی بدلے کا لبادہ پہنا کر پیش کرتے ہیں۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب اجیت دوول نے 10 جنوری کو نئی دہلی میں منعقدہ ”وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو نہ صرف سرحدوں پر فوجی طاقت کے اعتبار سے بلکہ معیشت، سماجی ترقی اور دیگر شعبوں میں بھی خود کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ ”تاریخ کا بدلہ“ لے سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دوول کے اس بیان کو نئی دہلی کے سخت گیر اور تصادم پر مبنی ذہنیت کی عکاسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں پاکستان کے قیام سے انکار جیسے بیانیے اور مئی 2025 کے تنازع میں پاکستان کے ہاتھوں شکست پر پائی جانے والی ناراضی بھی شامل ہے۔
تقریب سے خطاب میں اجیت دوول نے ماضی کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ہر میدان میں خود کو عظیم بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ بدلہ ایک اچھا لفظ نہیں، لیکن یہ قومی پالیسی کو آگے بڑھانے میں ایک بڑی قوت ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ماضی کی سیکیورٹی کوتاہیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے بھارت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا اور نوجوانوں کو ان ”تاریخی اسباق“ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے تمام تنازعات کی جڑ سیکیورٹی خدشات اور دوسرے ممالک پر اپنی شرائط مسلط کرنے کی خواہش میں ہوتی ہے۔
ان کے مطابق جنگیں کسی تشدد پسند ذہنیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ریاستی مفادات کے تحت دوسرے ملکوں کو زیرِ اثر لانے کی کوششوں سے جنم لیتی ہیں۔
طاہر اندرابی کے مطابق ایسے بیانات سنجیدہ سفارت کاری اور ذمہ دار ریاستی حکمت عملی کا متبادل نہیں ہو سکتے۔