شائع 14 جنوری 2026 12:01pm

عدالت نے ارشد شریف کیس نمٹانے کا عندیہ دے دیا

نامور پاکستانی صحافی اور اینکر ارشد شریف کے قتل کیس کو وفاقی آئینی عدالت نے جلد نمٹانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ تفتیش کا عمل کافی سست رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کسی پر الزام لگانا نہیں چاہتی اور کیس میں شفافیت کے لیے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

بدھ کو کیس کی سماعت کے دوران ارشد شریف کے وکیل نے بتایا کہ سوموٹو کی بنیاد پر کمیشن بنایا گیا اور تفتیش ابھی تک جاری ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے استفسار کیا کہ کینیا میں اب تک کیا اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وہاں کیس کیا گیا اور فیصلے ہمارے حق میں آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ واقعے کو ایک حادثہ سے قتل کے زمرے میں شامل کیا جائے، تاہم حکومت اور ان کے اپروچ میں فرق موجود ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی جا چکی ہے اور ابتدائی طور پر کینیا حکومت نے تفتیش میں مدد دینے سے انکار کیا تھا، مگر گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان میمورنڈم آف ایگریمنٹ ہوا جس کے بعد مزید تفتیش کے لیے اب کینیا حکومت کی اجازت پر ٹیم جائے وقوعہ بھیجے گی۔

انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ پر جا کر کینیائی حکومت شواہد فراہم کرے گی۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے عمران فاروق قتل کیس کا بھی تذکرہ کیا اور بتایا کہ انگلینڈ میں بھی تفتیش پاکستان اور برطانیہ کی پولیس کے تعاون سے ہوئی تھی۔

ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ عمران فاروق اور ارشد شریف کے قتل کی نوعیت مختلف ہے، جبکہ ارشد شریف قتل کیس میں چالان جمع کروا دیا گیا ہے اور دو ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ دونوں ملزمان اس وقت کینیا میں موجود ہیں اور انہیں انٹر پول کے ذریعے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا اور پوری کوشش ہے کہ تفتیش جلد سے جلد مکمل کی جائے تاکہ عدالت کارروائی آگے بڑھا سکے۔

ارشد شریف کون تھے؟

ارشد شریف، جنہیں پاکستانی فوج اور حکمران حلقوں کا سخت ناقد سمجھا جاتا تھا، اگست 2022 میں پاکستان چھوڑ کر پہلے متحدہ عرب امارات گئے اور بعد میں کینیا پہنچے تھے۔ اکتوبر 2022 میں کینیا میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس میں مقامی پولیس نے کہا کہ ارشد شریف کو غلط شناخت پر گولی ماری گئی، تاہم بعد کی تحقیقات میں معاملہ مشکوک قرار پایا۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کیس کی جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی اس میں بتایا گیا کہ ارشد شریف کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔

رپورٹ میں کینیا میں ان کے میزبانوں وقار اور خرم احمد کے کردار اور ان سے کیے گئے انٹرویوز شامل ہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ارشف شریف موبائل فون، واٹس ایپ، ای میلز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کا تفصیلی جائزہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق قتل کے وقت ارشد شریف کی کمر پر گولی لگی، لیکن گاڑی کی سیٹ پر کوئی نشان نہیں تھا، جس سے یہ بات مشکوک بن گئی کہ گولی قریب سے چلائی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالات کے مطابق خرم احمد کا مؤقف درست نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔ ممکنہ طور پر ارشد شریف کو کھڑی گاڑی میں نشانہ لے کر مارا گیا۔

پاکستانی ڈاکٹرز کے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ارشد شریف پر تشدد کے خدشات کو تقویت ملی۔ پاکستانی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے چار ناخن نہیں تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ارشد شریف کو پاکستان میں متعدد مقدمات کے بعد ملک چھوڑنا پڑا اور دبئی سے کینیا جانے پر مجبور کیا گیا۔

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کینیائی پولیس کی عدم معاونت کو بھی رپورٹ میں شامل کیا جبکہ بعض غیر ملکی کرداروں کی تحقیقات جاری ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کینیا میں واقع فارم ہاؤس میں ارشد شریف کی موت کی جگہ اور گولی چلنے کے زاویے سے متعلق شواہد پولیس اور میزبانوں کے بیانات متضاد ہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کیس کو انسداد دہشت گردی ونگ میں درج کرنے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ تحقیقات مکمل اور مؤثر طریقے سے کی جا سکیں۔

سپریم کورٹ کے ریمارکس کے مطابق اس کیس کو نمٹانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدات کے تحت مزید کارروائی کی جائے گی تاکہ ارشد شریف کے قتل کی حقیقت سامنے آ سکے اور انصاف ممکن ہو۔

Read Comments