چین کو حساس معلومات کی فروخت پر امریکی فوجی افسر کو 16 سال قید
امریکا میں سابق نیوی افسر کو جنگی جہازوں اور ان کے نظام سے متعلق خفیہ معلومات چینی انٹیلی جنس کو فروخت کرنے کے جرم میں 16 سال سے زائد قید کی سزا سنا دی گئی۔
امریکی بحریہ کے سابق اہلکار 25 سالہ جن چاؤ وے کو اگست میں امریکی ریاست سان ڈیگو کی وفاقی عدالت نے چھ الزامات میں مجرم قرار دیا تھا، جن میں جاسوسی کا جرم بھی شامل ہے۔ استغاثہ کے مطابق جن چاؤ وے کو پیر کے روز 200 ماہ یعنی 16 سال سے زائد قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم پر امریکی جنگی جہازوں اور ان کے آپریٹنگ سسٹمز سے متعلق تکنیکی اور عملی ہدایات چینی انٹیلی جنس افسر کو فراہم کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق جن چاؤ وے کو ان معلومات کے عوض 12 ہزار ڈالر سے زائد رقم ادا کی گئی تھی۔
جن چاؤ وے ’یو ایس ایس ایسیکس‘ نامی جنگی بحری جہاز پر بطورِ انجینئر تعینات تھے۔ وہ ان دو امریکی بحری اہلکاروں میں شامل تھے جن پر 3 اگست 2023 کو چین کو حساس فوجی معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا اہلکار وین ہنگ ژاؤ تھا، جسے جرم قبول کرنے پر 2024 میں رشوت وصول کرنے کے جرم میں دو سال سے زائد قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
امریکی حکام طویل عرصے سے چین کی جانب سے جاسوسی کے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے آ رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں چین کے انٹیلی جنس اہلکاروں کے خلاف متعدد مقدمات بھی دائر کیے گئے ہیں، جس میں حساس سرکاری اور تجارتی معلومات چرانے اور غیر قانونی ہیکنگ کے الزامات شامل ہیں۔
استغاثہ کے مطابق جن چاؤ وے سے 2022 میں ایک شخص نے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا اور خود چین کی سرکاری شِپ بِلڈنگ انڈسٹری کارپوریشن سے وابستہ ظاہر کیا، تاہم درحقیقت وہ چینی انٹیلی جنس افسر تھا۔
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق جن چاؤ وے نے ایک دوست کو بتایا تھا کہ یہ شخص ’انتہائی مشکوک‘ ہے اور یہ ’واضح طور پر جاسوسی‘ کا معاملہ لگتا ہے لیکن دوست کے مشورے کے باوجود اس نے رابطہ ختم نہیں کیا بلکہ گفتگو کو ایک اور خفیہ میسجنگ ایپ پر منتقل کر دیا، جسے وہ زیادہ محفوظ سمجھتا تھا۔
استغاثہ کے مطابق 18 ماہ کے دوران جن چاؤ وے نے ’یو ایس ایس ایسیکس‘ کی تصاویر اور ویڈیوز چینی افسر کو بھیجیں، امریکی بحری جہازوں کی موجودگی کے مقامات سے آگاہ کیا اور جہاز کے دفاعی ہتھیاروں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سابق نیوی اہلکار نے چین کے انٹیلی جنس افسر کو خفیہ نوعیت کے 60 تکنیکی اور آپریٹنگ مینولز فروخت کیے، جس میں اسلحے کے کنٹرول، طیاروں سمیت دیگر اہم اور حساس معلومات شامل تھیں۔ ان دستاویزات پر برآمدی کنٹرول کی واضح وارننگ موجود تھی اور ’ایسیکس‘ سمیت اسی نوعیت کے دیگر جہازوں کے متعدد آپریٹنگ سسٹمز کی تفصیلات درج تھیں۔
جن چاؤ وے نیوی میں سیکنڈ کلاس پیٹی آفیسر کے عہدے پر فائز تھا جو ایک نان کمیشنڈ رینک ہے۔ امریکی بحریہ کی ویب سائٹ کے مطابق یو ایس ایس ایسیکس 2 ہزار سے زائد میرین اہلکاروں کو فضائی اور آبی حملے کے دوران منتقل اور معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سزا سے قبل جج کو لکھے گئے خط میں جن چاؤ وے نے معافی طلب کرتے ہوئے کہا کہ اسے کسی ایسے شخص کے ساتھ کوئی معلومات شیئر نہیں کرنی چاہیے تھیں جسے وہ دوست سمجھتا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ تنہائی اور کم گوئی نے اس کی سوچ کو متاثر کیا اور اسی وجہ سے وہ یہ غلط اقدام کرنے پر مجبور ہوا۔