بونے ستارے سے نکلی رنگین ’لہر‘ نے ماہرِ فلکیات کو چونکا دیا
ماہرینِ فلکیات نے کائنات میں ایک ایسا منظر دریافت کیا ہے جو نہ صرف سائنسی اعتبار سے معمہ بن چکا ہے بلکہ دکھائی دینے والے حسن کے لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے۔ اس نظارے نے سائنس دانوں کو حیرت اور تجسس میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک وائٹ ڈوارف ستارے کو خلا میں حرکت کرتے ہوئے دیکھا ہے جو اپنے گرد و نواح میں رنگوں سے بھرپور ایک عظیم الشان جھٹکے کی لہر پیدا کر رہا ہے، اور اس مظہر کی وجہ تاحال سائنس کی سمجھ سے باہر ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ وائٹ ڈوارف ایک دوہرے ستاروں کے نظام یا بائنری سسٹم کا حصہ ہے، جہاں یہ اپنے ساتھ موجود ایک کمزور سرخ ستارے کے گرد انتہائی قریب فاصلے پر گردش کر رہا ہے۔ دونوں ستارے ہماری ملکی وے کہکشاں میں، زمین سے تقریباً 730 نوری سال کے فاصلے پر، برجِ اوریگا میں واقع ہیں، جو فلکی پیمانے پر نسبتاً قریب سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ وائٹ ڈوارف نہایت طاقتور مقناطیسی میدان رکھتا ہے اور اپنے ساتھی سرخ بونے ستارے سے گیس کھینچ رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اگرچہ عام طور پر ایسے نظاموں میں گیس کی ایک چپٹی ڈسک بنتی ہے، مگر اس معاملے میں کوئی واضح ڈسک موجود نہیں۔ اس کے باوجود وائٹ ڈوارف خلا میں مادہ خارج کر رہا ہے، جس کی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
یہ جھٹکے کی لہریں جسے سائنسی زبان میں بو شاک کہا جاتا ہے، یورپی سدرن آبزرویٹری کی چلی میں واقع ویری لارج ٹیلی اسکوپ کے ذریعے دیکھی گئی۔ جب وائٹ ڈوارف سے خارج ہونے والا مادہ آس پاس کے بین النجمی گیس سے ٹکراتا ہے تو شدید دباؤ اور حرارت پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف عناصر مخصوص رنگوں میں چمک اٹھتے ہیں۔
سرخ رنگ ہائیڈروجن، سبز نائٹروجن اور نیلا آکسیجن کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے، جو خلا میں پہلے سے موجود تھے اور اس تصادم سے روشن ہو گئے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس شاک ویو کی ساخت اور لمبائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل کم از کم ایک ہزار سال سے جاری ہے، یعنی یہ کوئی عارضی یا اچانک واقعہ نہیں بلکہ ایک طویل المدت فلکی سرگرمی ہے۔
وائٹ ڈوارف کائنات کے سب سے زیادہ گھنے اجسام میں شمار ہوتے ہیں، اگرچہ وہ بلیک ہول جتنے شدید نہیں ہوتے۔ ایسے ستارے عموماً اُن سورج جیسے ستاروں کا انجام ہوتے ہیں جو اپنا ایندھن ختم کر کے پہلے سرخ دیو بنتے ہیں اور پھر اپنی بیرونی تہیں خارج کر کے ایک گھنا مرکزی کور چھوڑ دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہمارا سورج بھی اربوں سال بعد اسی انجام سے دوچار ہوگا۔ اس مخصوص نظام میں وائٹ ڈوارف کا حجم زمین سے کچھ بڑا ہے، مگر اس کا وزن تقریباً سورج جتنا ہے۔ اس کا ساتھی سرخ بونا ستارہ سورج کے مقابلے میں محض دسواں حصہ کمیت رکھتا ہے اور بے حد مدھم ہے۔
دونوں ستارے ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ ان کا درمیانی فاصلہ تقریباً زمین اور چاند کے فاصلے کے برابر ہے، اور وہ صرف 80 منٹ میں ایک چکر مکمل کرتے ہیں۔
اگرچہ وائٹ ڈوارف کے مقناطیسی قطبین پر گیس کے گرنے سے توانائی اور شعاعیں خارج ہوتی ہیں، مگر سائنس دانوں کے مطابق یہ عمل اس قدر مادہ باہر پھینکنے کے لیے کافی نہیں جو اس وسیع شاک ویو کی وضاحت کر سکے۔ یہی معمہ اس دریافت کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسی پہلو سے ہٹ کر بھی یہ منظر ہمیں بتاتا ہے کہ خلا کسی سنسان اور ساکت خلا کا نام نہیں، بلکہ یہ مسلسل حرکت، توانائی اور تبدیلیوں سے تراشا جا رہا ہے۔ رنگوں میں لپٹی یہ جھٹکے کی لہر کائنات کی اسی زندہ اور متحرک فطرت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔