شائع 12 جنوری 2026 12:40pm

حکومت کا بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے نہ کرنے کا فیصلہ

حکومت نے بجلی کے صارفین کو ریلیف دیتے ہوئے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

حکومت نے بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں رد و بدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں سماعت کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سبسڈی کو ایڈجسٹ کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ٹیرف میں اضافے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

پاور ڈویژن حکام کے مطابق جولائی سے اب تک انرجی مکس میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کے اثرات بجلی کی مجموعی لاگت پر پڑے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صارفین پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور بجلی کے نرخ موجودہ سطح پر برقرار رکھے جائیں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف کیٹیگریز کے صارفین کو مجموعی طور پر 629 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق سال 2024 میں بجلی کے شعبے کی مالی ضروریات 3 ہزار 768 ارب روپے تھیں، جبکہ 2026 کے لیے مالی ضروریات کا تخمینہ 3 ہزار 379 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ انڈسٹریل کراس سبسڈی کو 225 ارب روپے سے کم کر کے 102 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کمپنیوں کی نااہلیوں کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کیا جا رہا۔

اسلام آباد میں حکام نے مزید بتایا کہ نیا بلنگ سسٹم جلد شروع کیا جا رہا ہے، جس سے نظام میں شفافیت آئے گی۔ پاور ڈویژن نے نیپرا سے درخواست کی کہ وہ حکومت کی درخواست پر جلد فیصلہ کرے تاکہ پالیسی پر بروقت عملدرآمد ممکن ہو سکے۔

Read Comments