اپ ڈیٹ 12 جنوری 2026 12:00pm

چین نے چاند پر وقت کے لیے تیز چلنے والی گھڑی تیار کرلی

چین کے محققین نے چاند کے لیے دنیا کا پہلا ٹائم کیپنگ سافٹ ویئر متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد چاند پر نیویگیشن اور لینڈنگ کے عمل کو زیادہ درست بنانا ہے۔

یہ قدم اس لیے بھی ضروری ہوا کیونکہ دنیا بھر میں چاند کے مشنز اور تحقیق کی دوڑ تیز ہو رہی ہے اور مستقبل میں وہاں زیادہ خلائی گاڑیاں اور سرگرمیاں متوقع ہیں۔

چاند پر گھڑیاں زمین کے مقابلے میں تھوڑی تیز چلتی ہیں کیونکہ وہاں کششِ ثقل کم ہے، جس کی وجہ سے روزانہ تقریباً 56 ملیئنتھ سیکنڈ کا فرق پڑتا ہے۔ اگرچہ یہ فرق بہت چھوٹا ہے، لیکن وقت کے ساتھ جمع ہو کر زمین کے وقت کو چاند کے لیے غیر قابل اعتماد بنا دیتا ہے، جس سے نیویگیشن اور لینڈنگ کے عمل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

نانجنگ میں واقع پرپل ماؤنٹین آبزرویٹری کی ٹیم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایل ٹی ای 440 (Lunar Time Ephemeris) نامی سافٹ ویئر تیار کیا ہے۔ یہ سافٹ ویئر زمین اور چاند کے وقت کے فرق کو آسانی سے معلوم کرنے کی سہولت دیتا ہے، بغیر کسی پیچیدہ حساب کے۔

ٹیم کے مطابق اس کا مقصد چاند پر وقت کے نظام کو عملی طور پر استعمال کے قابل بنانا ہے، خاص طور پر مستقبل میں جب وہاں زیادہ خلائی مشنز اور انسانی سرگرمیاں ہوں گی۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ ابھی ایک ابتدائی قدم ہے اور مستقبل میں اسے مزید بہتر بنانا ہوگا تاکہ ریئل ٹائم نیویگیشن اور چاند پر گھڑیوں کے نیٹ ورک کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر فلکیات جوناتھن میک ڈاؤل نے کہا کہ چاند کے لیے وقت کا نظام اب ایک حقیقی ضرورت بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، چاند پر مستقبل میں جی پی ایس جیسے نظام اور بڑھتی ہوئی انسانی و خلائی سرگرمیوں کے لیے یہ سافٹ ویئر ایک عملی اور ضروری حل ثابت ہوگا۔

ہارورڈ کے فلکیات دان جوناتھن میک ڈاؤل کے مطابق ایل ٹی ای 440 کی دستیابی ظاہر کرتی ہے کہ چین چاند کے متعلق تحقیق میں سنجیدہ ہے اور اپنے نتائج کھلے انداز میں شیئر کر رہا ہے۔

میک ڈاؤل کے مطابق، اگرچہ امریکا میں بھی اس طرح کے کام جاری ہیں، لیکن ایل ٹی ای 440 جیسا آسان دستیاب ٹول کسی اور جگہ موجود نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین چاند کے متعلق تحقیق میں سنجیدہ ہے اور اپنے نتائج کو کھلے انداز میں شیئر کر رہا ہے۔

Read Comments