شائع 11 جنوری 2026 11:39pm

کراچی: باغ جناح میں پی ٹی آئی کا جلسہ نہ ہوسکا، سہیل آفریدی مختصر خطاب کے بعد روانہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کراچی کے باغ جناح گراؤنڈ میں طے شدہ جلسہ منعقد نہ ہو سکا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کئی گھنٹوں بعد نمائش چورنگی پہنچے اور مختصر خطاب کرکے روانہ ہوگئے۔ ان کے خطاب کے بعد علاقے کو کلیئر کرکے ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے کراچی کے باغ جناح گراؤنڈ میں آج جلسے کا اعلان کیا گیا تاہم مختلف وجوہات کے باعث جلسہ منعقد نہ ہوسکا جب کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی باغ جناح میں داخل ہوئے بغیر واپس روانہ ہو گئے۔

روانگی سے قبل سہیل آفریدی نے نمائش کی مرکزی شاہراہ پر کارکنان سے خطاب کیا جب کہ ان کے خطاب کے بعد نمائش چورنگی سے پی ٹی آئی کارکن بھی منتشر ہوگئے۔

خطاب کے بعد انتظامیہ نے علاقے کو بھی کلیئر کرایا، جس کے نتیجے میں نمائش چورنگی اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بحال ہو گئی۔

انتظامیہ کے مطابق صورت حال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے آج کے جلسے کے لیے باغ جناح گراؤنڈ میں تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں اور جلسے میں شرکت کے لیے کارکنان کی بڑی تعداد باغ جناح جلسہ گاہ پہنچ کر اپنے لیڈر کی منتظر رہی۔

جلسے سے پہلے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کیماڑی اور بلدیہ سمیت شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور کئی گھنٹے بعد  نمائش چورنگی پہنچے۔

اس کے علاوہ سہیل آفریدی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر بھی حاضری نہ دے سکے، ان کو آج مزار قائد پر حاضری دینا تھی تاہم وہ وقت پر نہ پہنچ سکے۔ مزار قائد پر حاضری کا وقت ختم ہوگیا اور 6 بجتے ہی قومی پرچم سرنگوں کرکے مزارقائد کے دروازے بند کردیے گئے۔

حکومت سندھ کی جانب سے تحریک انصاف کو دیے گئے وقت میں رات 12 بجے سے پہلے جلسہ ختم کرنا تھا، نوٹیفکیشن میں درج تھا کہ طے شدہ شرائط کے تحت پی ٹی آئی کو رات 12 بجے سے قبل جلسہ ختم کرنا ہے بصورتِ دیگر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل شام کے وقت باغ جناح کے قریب کچھ بدمزگی بھی ہوئی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی چلتی رہی، جب پی ٹی آئی کارکنوں نے دیواریں پھلانگ کر جلسہ گاہ جانے کی کوشش کی تو پولیس نے مشتعل کارکنان پر شیلنگ کی، اس پر مشتعل کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔

گرومندر سمیت جلسہ گاہ کے اطراف مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔ نمائش چورنگی کے قریب پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جب کہ پولیس نے کئی پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

اسی دوران مشتعل افراد نے میڈیا ورکرز کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے باغ جناح گراونڈ پر آج ٹی وی سمیت مختلف چینلز کی ڈی ایس این جی پر حملےاور رپورٹر، کیمرامین وی دیگر اسٹاف کو زخمی کرنے کے واقعہ کا نوٹس لیا۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن، سعدیہ جاوید، متحدہ ڈپٹی پارلیمانی لیڈرطہ احمد، ترجمان حکومت پاکستان راجہ انصاری سمیت ارکان اسبلی اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کی اور شرپسندوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

سندھ اور وفاق کے حکومتی نمائندوں نے حملے کو آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے بھی صحافیوں پر تشدد حملوں اور ہراساں کرنے کے اقدامات کی مذمت کی۔

ایک بیان میں کے یو جے کے صدر طاہر حسن خان جنرل سیکرٹری سردار لیاقت نے کہا صحافیوں پر حملہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت اقدام ہے۔

ترجمان پی ٹی آئی نے سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی فسطائیت اور ظلم کے باوجود کراچی نکل کر اپنے کپتان کے نظریے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے۔

پی ٹی آئی جلسہ شہریوں کے لیے بڑا امتحان بن گیا، مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام رہی، راشد منہاس روڈ، سہراب گوٹھ، یونیورسٹی روڈ، حسن اسکوائر سمیت کئی علاقوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔

سہیل آفریدی کا ویڈیو پیغام

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جلسے کے لیے روانگی سے قبل ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ کراچی آنے اور باغِ جناح جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیا ہے، اس کے باوجود ہم جلسہ کریں گے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے جس طرح مہمانوں کو عزت دی وہ سب نے دیکھ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی جعلی حکومت سندھی ٹوپی اور اجرک کو عزت نہیں دے پائی تاہم عوام نے انہیں عزت دی ہے اوروہ سندھی ٹوپی اور اجرک کی لاج رکھیں گے۔

دوسرے پیغام میں سہیل آفریدی نے کہا کہ آج کراچی کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا اور اسے روکنے کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہوں گے۔

انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، کراچی کے ہر کونے سے کارکن نکلیں اور ہمارے قافلے کا حصہ بنیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ہمراہ گاڑی میں سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ بھی موجود ہیں۔

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے دورہ سندھ کا آج آخری روز ہے۔ سندھ حکومت آخری دن بدمزگی پیدا نہ کرے اور ماحول کو اچھا رہنے دیا جائے۔

انہوں نے سندھ حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بہت برداشت کیا ہے، ایک دن آپ بھی صبر کر لیں۔

بیرسٹر گوہر نے کراچی کے عوام سے جلسے میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جلسہ مقررہ وقت اورمقام پر جمہوری انداز میں ہوگا۔ یہ جلسہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ حقوق کے لئے ہوگا۔

پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ہر حال میں جلسہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس دن ہمارے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا گیا اور مینڈیٹ لوٹا گیا۔ انہوں نے 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی بھی اپیل کی۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورۂ سندھ پر انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ایک آئینی عہدہ ہے اور حکومتِ سندھ نے آئینی تقاضوں کے مطابق اس عہدے کا مکمل احترام کیا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی انتظامیہ حکومتِ سندھ سے مسلسل رابطے میں رہی، اجازت کے باوجود الزامات عائد کرنا مناسب عمل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے پہلے روز ہی واضح کر دیا تھا کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو گراؤنڈ میں جلسہ کرنے سے نہیں روکا گیا، مسئلہ سڑکوں پر ریلیوں اور جلوسوں کا ہے۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر ریلیوں سے ٹریفک بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان قانون ہاتھ میں نہ لیں اور حکومتی گائیڈ لائنز پر عمل کریں۔

Read Comments