کراچی: پی ٹی آئی کارکنان کا آج نیوز کی ڈی ایس این جی پر حملہ، رپورٹر اور کیمرا مین زخمی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اتوار کے روز کراچی میں جلسے کی کال پر باغِ جناح گراؤنڈ میں کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے پتھراؤ کے جواب میں ہونے والی شیلنگ کے بعد باغِ جناح گراؤنڈ کے باہر آج نیوز کی ڈی ایس این جی پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں رپورٹر اور کیمرا مین زخمی ہوگئے۔ وزیرِ داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
کراچی کے علاقے باغ جناح گراؤنڈ پر پی ٹی آئی کے جلسے کے دوران آج ٹی وی کی ڈی ایس این جی پر مشتعل کارکنوں نے دھاوا بول دیا ہے، آج ٹی وی کی ٹیم اپنے فرائض منصبی کے دوران باغ جناح گراؤنڈ میں ہونے والے جلسے کی کوریج کے لیے موجود تھی کہ مشتعل کارکنوں نے ڈی ایس این جی کے شیشے توڑ دیے اور شدید پتھراؤ سے رپورٹرز اور کیمرامین زخمی ہوگئے۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن، سعدیہ جاوید، متحدہ ڈپٹی پارلیمانی لیڈرطحہ احمد، ترجمان حکومت پاکستان بیرسٹر راجہ خلیق الزماں انصاری سمیت ارکان اسبلی اور دیگر رہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شرپسندوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کراچی باغ جناح گراؤنڈ کے قریب آج نیوز کی گاڑی پر حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایس ایس پی ایسٹ فی الفور ابتدائی پولیس ایکشن پر مشتمل تفصیلات سے آگاہ کریں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شرپسند عناصر کو آڑے ہاتھوں لیا جائے، کسی کو امن و امان کے حالات سبوتاژ کرنے نہیں دیں گے، جدید مانیٹرنگ نظام سے نشاندہی کرکے شرہسندوں کو گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے، پولیس کڑی نگرانی اور مانیٹرنگ کو مذید سخت کرے، ہم نے امن چاہا ہے اور ہم امن کے قدردان ہیں، سندھ حکومت صحافی برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔
ترجمان حکومت پاکستان برائے سندھ بیرسٹر راجہ خلیق الزماں انصاری نے کہا کہ جس کا ڈر تھا وہی ہوا میں کل سے کہہ رہا ہوں یہ دہشت گرد ہیں، ان کے ساتھ افغانیوں کی بڑی تعداد ہے، یہ صرف افراتفری چاہتے ہیں، سندھ حکومت نے پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت دے کر دہشت گردوں کو ایکسپوز کردیا ہے۔
راجہ خلیق الزماں انصاری نے کہا کہ آج نیوز کی ٹیم خصوصا خاتون رپورٹر پر حملہ کرکے انہیں زخمی کرنے اور کوریج کرنے والی ڈی ایس این جی کو نقصان پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ان لوگوں کے آگے ماں اور بہن کی کوئی عزت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد، دہشت گرد ہوتا ہے، یہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے، میں صحافیوں پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سندھ حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
ترجمان پی ٹی آئی سندھ محمد علی بلوچ نے کہا کہ نمائش پر میڈیا پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، کارکنان پرامن ہیں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے، اگر کسی نے میڈیا پر حملہ کیا ہے تو ان شرپسند کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ترجمان پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی پرامن جماعت ہے، انتشار پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، میڈیا عوام کی آواز ہے میڈیا پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں۔
پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں جھڑپ
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے کراچی میں جلسے کے پیش نظر پی ٹی آئی کارکنوں نے باغ جناح گراؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر باغ جناح کے چاروں اطراف پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔
نمائش چورنگی کے قریب باغ جناح میں مظاہرین کی پولیس موبائل پر پتھراؤ کی فوٹیج بھی سامنے آئی جس میں مشتعل افراد کی جانب سے پولیس موبائل کو روکتے اور پتھراؤ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، پولیس نے سولجربازار سے نمائش آنے والے پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی۔
نمائش چورنگی پر کارکنان کو حراست میں لینے کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس کی جانب سے وقفے وقفے سے نمائش چورنگی پر جمع ہونے والے کارکنان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ پولیس نے نمائش چورنگی کو خالی کرادیا اور کارکن باغ جناح میں داخل ہوگئے۔
کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ
کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا جلسہ شہریوں کے لیے بڑا امتحان بن گیا ہے، جہاں مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہے۔
نمائش جانے والے مختلف راستوں پر پولیس موبائلیں کھڑی کر دی گئی ہیں جب کہ راشد منہاس روڈ پر بھی ٹریفک جام ہے اور گاڑیوں کی قطاریں لگی ہیں۔
سہراب گوٹھ پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہے، یونیورسٹی روڈ اردو یونیورسٹی کے قریب سڑک پر پولیس موبائلز موجود ہیں۔ یونیورسٹی روڈ اور اطراف میں ٹریفک کا دباؤ ہے۔
اس کے علاوہ حسن اسکوائر کے قریب سر شاہ سلیمان روڈ پر بھی گاڑیوں کی قطاریں لگی ہیں، پولیس اقدامات کی وجہ سے شہری سخت اذیت کا شکار ہیں۔
خیال رہے کہ کراچی میں تحریک انصاف کے جلسے سے پہلے مزارِ قائد اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ پیپلز چورنگی سے مزارِ قائد آنے والی سڑک کا ایک ٹریک اور خداداد کالونی سے آنے والی سڑک کے دونوں ٹریک بند ہیں۔ اس کے علاوہ گرومندر سے نمائش سگنل تک جانے والی سڑک بھی بند کردی گئی ہے۔