بیٹیوں کی پیدائش باپ کو کس خطرناک ذہنی بیماری سے بچاتی ہے؟
کہا جاتا ہے کہ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں اور یہ بات اب سائنسی تحقیق سے بھی ثابت ہو چکی ہے۔ اگر آپ کے گھر میں بیٹیاں ہیں تو آپ واقعی ایک خوش نصیب باپ ہیں اور یہ خوش نصیبی صرف محبت اور جذبات تک محدود نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
جرنل آف ویمن اینڈ ایجنگ میں شائع ہونے والی حالیہ سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بیٹیوں کی موجودگی والدین، خاص طور پر باپ میں بڑھاپے کے دوران دماغی کمزوری اور یادداشت کے مسائل کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔
عمر رسیدہ افراد پر کی گئی تحقیق کے مطابق جن والد کی بیٹیاں ہیں، وہ بڑھتی عمر کے باوجود بہتر ذہنی صلاحیتوں کے حامل پائے گئے۔
ان کی یادداشت نسبتاً مضبوط رہی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی زیادہ متاثر نہیں ہوئیں، جبکہ صرف بیٹوں والے والد میں یہ صلاحیتیں کمزور ہونے کے امکانات زیادہ دیکھے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فرق کی وجہ کسی جسمانی یا جینیاتی عنصر سے زیادہ سماجی اور جذباتی تعلقات ہیں۔ بیٹیاں عام طور پر والدین کےقریب رہتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب عمر بڑھنے کے ساتھ والدین کو تنہائی اور کمزوری کا احساس بڑھنے لگتا ہے۔
بیٹیاں نہ صرف جذباتی سہارا دیتی ہیں بلکہ علاج معالجے، روزمرہ کی دیکھ بھال اور مستقل والدین کو متحرک بھی رکھتی ہیں ۔ یہ عوامل اکٹھے ہوکر دماغی سرگرمی کو برقرار رکھتے ہیں اور ذہنی کمزوری کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کر دیتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ بیٹیوں کا اچھا اثر ماؤں پر زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ مائیں بیٹیوں کے جذباتی سہارا اور سماجی قربت سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت زیادہ عرصے تک بہتر رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیمنشیا ایک ایسی بیماری ہے جو آہستہ آہستہ یادداشت، توجہ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے اور اس کا کوئی مکمل علاج اب تک موجود نہیں۔ ایسے میں خاندانی تعلقات، سماجی روابط اور ذہنی سرگرمیاں اس بیماری کے اثرات کو سست کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ بیٹیاں صرف گھر کی رونق نہیں ہوتیں بلکہ وہ والدین کے لیے ذہنی سکون، تحفظ اور صحت مند بڑھاپے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔ یہ رشتہ جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔