شائع 09 جنوری 2026 11:38pm

8 فروری کو ہی معلوم ہوگا کہ مذاکرات ہونے ہیں یا نہیں: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی اموار رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ 8 فروری کو ہی معلوم ہوگا کہ مذاکرات ہونے ہیں یا نہیں، پہیہ جام ہڑتال کی اجازت آئین میں نہیں، یہ ان کا ہنگامہ آرائی کا پروگرام ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رکھیں گے تو مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

جمعے کو جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کرنا چاہتے ہیں، جس کی قانون میں اجازت نہیں، پہیہ جام ہڑتال پرامن نہیں ہوتی یہ ان کا ہنگامی آراہی کا پروگرام ہے، یہ اگر یہ سلسلہ جاری رکھیں گے تو مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 8 فروری کو ہی معلوم ہوگا کہ مذاکرات ہونے ہے یا نہیں، پی ٹی آئی کی تحریک کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں، پی ٹی آئی کوئی اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کی پوزیشن میں نہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی غیر قانونی سرگرمی میں مصروف ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ ہمیں کراچی میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں، سندھ حکومت وہاں پہیہ جام ہڑتال کی کوئی اجازت نہیں دے گی, یہ اگر کوئی ایسی ویسی حرکتیں کریں گے تو پھر کل خود روئیں گے کہ ایف آئی آرز ہوگئیں۔

ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگ آپریشن کے حوالے سے ابہام پیدا کررہے ہیں، پی ٹی آئی نے کہا کہ دہشت گردی کو سپورٹ نہیں کرتے جو اچھا ہے لیکن جو فورسز دہشت گردوں سے لڑرہی ہے ان کو بھی سپورٹ نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے نہیں سنا کہ کبھی پی ٹی آئی نے دہشت گردی کی مذمت کی ہو، یہ عمل قابل اعتراض ہے، یہ بیانیہ ان کو چھوڑ دینا چاہیے، اگر دہشت گردوں کو سپورٹ نہیں کرتے تو فورسز کی حمایت کریں۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ میں ہمیشہ مذاکرات کا حامی رہا ہوں، سیاسی معاملات پر سیاسی جماعتوں کو بیٹھنا چاہیے، 8 فروری تک پی ٹی آئی سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

Read Comments