اپ ڈیٹ 10 جنوری 2026 01:12pm

ترکیہ پاک-سعودی دفاعی اتحاد میں شامل ہونا چاہتا ہے: بلومبرگ کا دعویٰ

امریکی خبر رساں ادارے (بلومبرگ) نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جو گذشتہ برس ستمبر میں پاکستان اور سعودیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ تاہم اس حوالے سے اب تک کسی ملک کی جانب سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

بلومبرگ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کا خواہش مند ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ دوسرے فریق پر تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مماثلت رکھتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات خاصے آگے بڑھ چکے ہیں اور معاہدے کے طے پانے کے امکانات موجود ہیں، تاہم ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب میں سے کسی بھی ملک نے اس پیش رفت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر متعلقہ افراد کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کراپنے دفاع کو مضبوط بنائے، اسی لیے وہ اس معاہدے کا حصہ بننا چاہتا ہے جو پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ گزشتہ برس ستمبر میں کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق ترکیہ کی ممکنہ شمولیت خطے میں طاقت کے توازن پر اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ تینوں ممالک کے مفادات اب جنوب ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقا تک پھیل چکے ہیں۔

سعودی عرب مالی وسائل، پاکستان جوہری صلاحیت اور عسکری افرادی قوت، جبکہ ترکیہ فوجی تجربہ اور دفاعی صنعت کے ذریعے اس اتحاد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق ترکیہ اس اتحاد کو ایک حفاظتی اور تزویراتی اقدام کے طور پر دیکھتا ہے، خاص طور پر امریکا کی پالیسیوں اور نیٹو کے مستقبل پر اٹھنے والے سوالات کے تناظر میں۔ اگر یہ اتحاد وسعت اختیار کرتا ہے تو نئی سیکیورٹی الائمنٹ سے مشرق وسطٰی میں طاقت کا توازن تبدیل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بات چیت آخری مراحل میں ہے اور ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جلد ہی ترکیہ پاک سعودی اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ گزشتہ برس ستمبر میں دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ دونوں ممالک نے دفاعی اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک ملک کے خلاف کی جانے والی جارحیت کو دوسرے ملک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

سعودی ولی عہد و وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی شاہی دیوان، قصر یمامہ میں وزیرِاعظم شہباز شریف کا سعودی شاہی پروٹوکول کے ساتھ استقبال کیا تھا، شاہی دیوان پہنچنے پر سعودی مسلح افواج کے دستوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا تھا۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے”اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے“ (SMDA) پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ اعلامیے کے مطابق معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔

Read Comments