تجارتی معاہدہ ملتوی ہونے کی وجہ مودی کا ٹرمپ کو کال نہ کرنا تھا، امریکی وزیر تجارت کا دعویٰ
امریکا کے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے معاہدہ طے کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال نہیں کی تھی۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کر کے معاملات کو حتمی شکل نہیں دی۔
جمعے کو ایک امریکی بزنس پوڈکاسٹ آل اِن کو انٹرویو دیتے ہوئے ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ معاہدہ تقریباً تیار تھا، لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ مودی صدر ٹرمپ سے براہِ راست بات کرتے، تاہم بھارتی قیادت اس حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔
انہوں نے کہا، ”سب کچھ طے تھا، بس مودی کو صدر کو فون کرنا تھا، لیکن وہ اس پر آمادہ نہیں ہوئے، اور یوں فون کال نہیں ہوئی۔“
گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہو گئے تھے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ ان ٹیرف میں روسی تیل کی خریداری کے ردعمل میں لگایا گیا 25 فیصد اضافی ٹیکس بھی شامل ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے حال ہی میں خبردار کیا کہ اگر بھارت نے روس سے تیل کی درآمد کم نہ کی تو ٹیرف مزید بڑھائے جا سکتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد بھارتی روپیہ تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ سرمایہ کار بھی ممکنہ تجارتی معاہدے میں پیش رفت کے منتظر رہے۔
ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی امریکا کی جانب سے برطانیہ اور ویتنام کو دی گئی ٹیرف پیشکش کے درمیان کسی شرح کا خواہاں ہے، تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔
بھارتی وزارتِ تجارت نے لٹنک کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ تاہم رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال نئی دہلی اور واشنگٹن تجارتی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے، لیکن رابطے میں خلل کے باعث معاہدہ طے نہ پا سکا۔
رپورٹ میں ایک بھارتی سرکاری عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیراعظم مودی اس خدشے کے باعث صدر ٹرمپ کو فون نہیں کر سکتے تھے کہ یکطرفہ گفتگو انہیں مشکل صورتحال میں ڈال سکتی تھی۔