شائع 08 جنوری 2026 01:23pm

ایران: پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت، 2 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بارہویں روز بھی جاری ہے۔

ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بارہویں روز بھی جاری ہے۔ گزشتہ روز صوبہ چہار محل اور بختیاری میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو پولیس اہلکار جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے، جبکہ احتجاج کے دوران گورنر کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

گزشتہ روز صوبہ چہار محل اور بختیاری میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔ احتجاج کے دوران گورنر کے دفاتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

انسانی حقوق گروپوں کے مطابق اب تک 36 مظاہرین اور 4 پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، پیلٹ گن اور بعض جگہوں پر براہ راست فائرنگ بھی کی ہے۔ ایران کے اعلیٰ عدلیہ کے حکام نے مظاہرین کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کوئی رعایت نہیں کی جائے گی‘ اور مشتعل افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مظاہرین کی جانب سے حکومت پر الزام ہے کہ وہ ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی قیمتوں کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ احتجاج کے دوران متعدد شہر اور مرکزی بازار بند ہیں، اور تاجروں نے بھی مظاہروں میں شرکت یا حمایت کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے سابق شاہ کے جلا وطن بیٹے رضا پہلوی نے مظاہرین کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج عوام کا ساتھ دیں اور مظاہرین پر گولی نہ چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ بہادر ایرانی عوام تاریخ رقم کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی ایران کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اور بعض ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت نے احتجاجات کو بیرونی سازشوں سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، جبکہ مظاہرین نے حکومت پر بدعنوانی اور عوامی مسائل میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔

Read Comments