سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی: دفترِ خارجہ
دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی نے پاک فضائیہ کے دنیا میں کسی بھی مسلح تصادم میں شرکت کی خبروں کو رد کردیا ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کو بھی ”غیر ذمہ دارانہ“ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ میں خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی سعودی عرب کو جے ایف 17 طیاروں کی فروخت سے متعلق خبر پر سوال کا جواب بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاع سمیت متعدد شعبوں میں تعاون موجود ہے، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط اور کثیر الجہتی نوعیت کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض پر کسی حتمی معاہدے کی اطلاع نہیں ہے، کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کے کسی فیصلے کی معلومات نہیں ہیں، فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ لگژمبرگ میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا دیا گیا بیان بھارتی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کو پاکستان کو لیکچر دینے کی بجائے اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے، اور اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اس کے الزامات اس کے امن دشمن اقدامات کو چھپا نہیں سکتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بیرونی عناصر کی طرف سے طاقت کے استعمال کے بھی مخالف ہے اور افغان طالبان رجیم سے قابل تصدیق تحریری یقین دہانی کی ضرورت ہے تاکہ افغان سرزمین دہشت گردی میں استعمال نہ ہو اور پاک افغان تعلقات کی نئی بنیاد رکھی جا سکے۔
ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں پاک فضائیہ کے کردار کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی فضائیہ دنیا میں کہیں بھی مسلح تصادم میں شریک نہیں ہے۔
انہوں نے انڈس واٹر ٹریٹی کی عالمی سطح پر بحالی اور سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی کی ناکامی پر بھی زور دیا اور کہا کہ جہلم یا نیلم دریا پر بھارت کوئی ڈیم نہیں بنا سکتا۔
اس دوران انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر سے متعلق یوم حق خودارادیت منایا گیا اور وہاں ہزاروں سیاسی رہنما جیلوں میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پانچ اگست 2019 سے کشمیری آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے چین کے ساتھ بھی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دورے کے بعد بیانات جاری کیے اور بنگلہ دیش میکانزم کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے سی پیک کے منصوبوں کو مزید ہم آہنگ کرنے اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کے فروغ پر بھی زور دیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے چین کو مسئلہ کشمیر سے آگاہ کیا اور چین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کو سراہا۔ اسحاق ڈار نے پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات میں شرکت کی اور ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کی قومی وحدت کے حصول کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور کشمیری تنازعہ کو تاریخی مسئلہ قرار دیتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہمیں افغان طالبان رجیم سے افغان سرزمین دہشت گردی میں استعمال نہ ہونے کی قابل تصدیق تحریری یقین دہانی چاہیے۔
انہوں نے ایران میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف کسی بھی بیرونی جارحیت کی مخالفت کرتا ہے، ہم کسی بھی بیرونی عناصر کی طرف سے طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں۔
ترجمان نے صومالی لینڈ کے حوالے سے پاکستان کے واضح مؤقف کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے صومالی لینڈ کی غیر قانونی ریاست کی مخالفت کی ہے، یہ برادر ملک صومالیہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق سیکرٹریز خارجہ اور سفیروں سے ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں، غزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شرکت پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا، اور امریکی صدر ٹرمپ کو مثبت کردار پر نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
اس بریفنگ میں پاکستان کی طرف سے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون، عالمی قوانین کے تحت پانی کے معاہدوں کی اہمیت، اور دہشت گردی کے خلاف سخت موقف پر زور دیا گیا، جبکہ بھارت کی یک طرفہ اور غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی مکمل مخالفت کی گئی۔