اپ ڈیٹ 08 جنوری 2026 03:24pm

’ہم کسی کو فتح کرنے نہیں نکلے‘: تحریکِ تحفظ آئینِ پاکستان کی اسٹریٹ مہم کا آغاز

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آج اپنی اسٹریٹ موبلائزیشن مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ مہم کی قیادت پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں، اور قافلہ اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ یہ تین روزہ دورہ عوامی رابطہ مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد آئینی اقدار کے تحفظ اور عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم کسی کو فتح کرنے یا پتھر مارنے نہیں نکلے بلکہ ہمارا مقصد آئین کی حفاظت کرنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں 28 فروری کو ملک گیر احتجاج اور سرگرمیوں کی کال دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، جس میں بسیں، ٹرک اور دیگر ٹرانسپورٹ بند رہیں گی، اور عوام پاکستان کی سڑکوں پر اپنی طاقت دکھائیں گے۔

قافلے میں بڑی تعداد میں گاڑیاں شامل ہیں اور مختلف مقامات پر تحریک تحفظ پاکستان کے رہنماؤں کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے۔ قافلے میں اپوزیشن اتحاد کے دیگر رہنما، بشمول معین قریشی، سینیئر نائب صدر علامہ راجہ ناصر عباس، نائب صدر مصطفیٰ نواز کھوکھر، سیکرٹری جنرل اسد قیصر اور دیگر اہم رہنما شامل ہیں۔

لاہور پہنچنے پر قافلہ سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کرے گا، جبکہ کئی اہم سیاسی رہنما تحریک میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی پنجاب اسمبلی کا دورہ بھی کریں گے اور کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید سے ملاقات کی کوشش کریں گے۔

تحریک کے ترجمان نے کہا کہ یہ مہم آئین کی بحالی اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے ہے اور عوام کو ظلم کے خلاف متحد کرنے کا آغاز ہے۔ قافلے کی روانگی کے بعد لاہور میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور رہنماؤں اور کارکنان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم کی مذمت کی تھی اور ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ تحریک کے قائدین کا کہنا ہے کہ یہ عوامی رابطہ مہم آئین کی حفاظت اور شفاف انتخابات کے مطالبے کو مزید تقویت دے گی، اور لاہور میں عوامی اجتماعات، پریس کانفرنسز اور جیل میں قید رہنماؤں سے ملاقاتوں کا پلان بھی موجود ہے۔

Read Comments