امریکہ نے بنگلہ دیش سمیت مزید 25 ممالک کو ویزا بانڈ کی ادائیگی کا پابند کردیا
امریکا نے امیگریشن قوانین کے تحت اپنے ویزا نظام میں مزید تبدیلی کی ہے، جن کا براہِ راست اثر بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند افراد پر پڑے گا۔
امریکی حکومت نے اپنی ویزا بانڈ پالیسی میں بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اب مجموعی طور پر 38 ممالک کے شہریوں کو سیاحتی اور کاروباری ویزا (بی ون اور بی ٹو) کے لیے درخواست دیتے وقت ضمانتی بانڈز جمع کروانے ہوں گے، جن کی رقم پانچ ہزار ڈالر سے لے کر 15 ہزار ڈالرز تک ہو سکتی ہے۔ یہ نئی شرائط 21 جنوری 2026 سے لاگو ہوں گی۔
نئی فہرست میں مزید 25 ممالک شامل کیے گئے ہیں، جن میں بنگلہ دیش، الجزائر، کیوبا، نیپال، نائیجیریا، وینزویلا سمیت کئی افریقی، لاطینی امریکی اور ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔ اس توسیع کے بعد اس پروگرام کا ہدف 38 ممالک تک پہنچ گیا ہے۔
یہ بانڈ پالیسی امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری معلومات کے مطابق ایسی درخواست گزاروں پر لاگو ہوگی جو سیاحت یا کاروبار کے لیے ویزا چاہتے ہیں اور وہ ایک خاص گروپ میں آتے ہیں۔ بانڈ کی رقم کا تعین کونسلیٹ آفیسر ویزا انٹرویو کے دوران کرتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بانڈ کا مقصد ایسے وزیٹرزکو روکنا ہے جو امریکہ میں اپنی ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر رہتے ہیں۔ بانڈ عموماً واپس مل جاتا ہے اگر ویزا درخواست منظور نہ ہو یا اگر ویزا ہولڈر ویزا کی شرائط کی پابندی کرتے ہوئے واپس چلا جائے۔ تاہم، بانڈ کی ادائیگی ویزا کے ملنے کی ضمانت نہیں دیتی۔
مزید برآں، جن درخواست گزاروں کو ویزا ملے گا، انہیں امریکہ میں داخلے کے لیے صرف تین مخصوص بین الاقوامی ہوائی اڈوں، بوسٹن لوگن، جان ایف کینیڈی (نیویارک) یا واشنگٹن ڈلّاس پر پہنچنا ہوگا، جیسا کہ محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے۔
اس نئی شرط پر عمل درآمد پچھلے پائلٹ پروگرام کا حصہ ہے جو اگست 2025 میں شروع کیا گیا تھا اور اس کے بعد اسے مزید وسعت دی گئی ہے، تاکہ امریکہ کی امیگریشن اور داخلے کے قوانین کو مزید سخت بنایا جا سکے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ یہ بانڈز بعض ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کے لیے امریکی ویزا حاصل کرنا مزید مہنگا اور مشکل بنا سکتے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں اوسط آمدنی کم ہے۔