نیپال میں لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ
نیپال کے شہر بھدرپور میں ’بدھا ایئر‘ کا ایک ٹربوپراپ مسافر طیارہ ہفتے کو لینڈنگ کے دوران رن وے سے آگے نکل گیا، تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایئرلائن کے مطابق طیارے میں 51 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے اور تمام افراد محفوظ رہے۔ یہ پرواز دارالحکومت کھٹمنڈو سے بھدرپور پہنچی تھی۔
ایئرلائن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پرواز نمبر 9N-AMF، جو اے ٹی آر 72-500 ماڈل کا ٹربوپراپ طیارہ ہے، لینڈنگ کے وقت رن وے سے تقریباً 200 میٹر آگے ایک نالے کے قریب جا رکا۔ اس دوران طیارے کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا اور کسی کو طبی امداد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
بدھا ایئر نے بتایا کہ تکنیکی ماہرین اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر کھٹمنڈو سے بھدرپور روانہ کی گئیں تاکہ طیارے کا معائنہ کیا جا سکے اور واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ ابتدائی طور پر کسی تکنیکی خرابی یا موسمی صورتحال کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مکمل جانچ کے بعد تفصیلات سامنے آئیں گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر نیپال کی فضائی حفاظت کے نظام پر سوالات کو جنم دے رہا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی ملک میں کئی فضائی حادثات پیش آ چکے ہیں۔
جولائی 2024 میں سوریا ایئرلائنز کا ایک بمبارڈیئر سی آر جے 200 ایل آر طیارہ کھٹمنڈو سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جس میں 19 میں سے 18 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
اس سے قبل جنوری 2023 میں یتی ایئرلائنز کا اے ٹی آر 72 طیارہ پوکھرا میں لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں تمام 72 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں تحقیقات میں سامنے آیا تھا کہ حادثہ پائلٹ کی جانب سے انجن کے پروپیلر غلطی سے بند کرنے کے باعث پیش آیا۔
حالیہ واقعے کے بعد نیپال کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور امکان ہے کہ حفاظتی اقدامات اور لینڈنگ کے طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی جغرافیہ، محدود رن ویز اور موسمی تبدیلیاں نیپال میں فضائی سفر کو زیادہ حساس بنا دیتی ہیں، اس لیے سخت حفاظتی معیار پر عمل درآمد نہایت ضروری ہے۔