وینزویلا نے متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیا
امریکا اور وینزویلا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں، جب وینزویلا کی جانب سے متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ کم از کم پانچ امریکی شہری اس وقت وینزویلا کی تحویل میں ہیں، جس کے بعد واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت اور حالات سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ گرفتار امریکی شہریوں کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ انہیں کن الزامات کے تحت اور کن حالات میں حراست میں لیا گیا۔
امریکی مؤقف کے مطابق وینزویلا ماضی میں بھی امریکی شہریوں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرتا رہا ہے اور حالیہ گرفتاریاں بھی اسی حکمتِ عملی کا تسلسل ہو سکتی ہیں۔
امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ وینزویلا، امریکا کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی شہریوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے گزشتہ روز بیان میں کہا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ بات چیت اور تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے حالیہ مبینہ امریکی حملے سے متعلق سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وینزویلا کو گزشتہ چند ہفتوں سے امریکی فوجی دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریاستی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر مادورو نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ، تیل اور ہجرت جیسے معاملات پر واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں۔