اپ ڈیٹ 03 جنوری 2026 09:43am

سعودی عرب سے ملحقہ یمنی علاقے میں لڑائی شدت اختیار کر گئی

یمن کے مشرقی صوبے حضرموت میں جھڑپیں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں۔ سعودی عرب کے حمایت یافتہ گورنر اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے علیحدگی پسند عناصر کے درمیان مختلف علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے، جس کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حضرموت میں سرکاری فورسز اور ایس ٹی سی کے جنگجوؤں کے درمیان بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ کئی علاقوں میں فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ جھڑپوں کے باعث شہری آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔

سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے سعودی عرب پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد کے قریب ان کی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایس ٹی سی کا مؤقف ہے کہ سعودی حمایت یافتہ دستوں کی جانب سے کارروائیاں دراصل حضرموت میں ان کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی کوشش ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حضرموت کے شہر سیئون میں واقع ہوائی اڈے اور ایک فوجی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ابتدائی حملوں میں وادی حضرموت اور صحرائے حضرموت کے علاقے میں واقع الخشعہ کیمپ پر بمباری کی گئی، جہاں سات افراد ہلاک جبکہ بیس سے زائد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب حضرموت کے گورنر نے ایس ٹی سی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اڈوں کا کنٹرول واپس لینے کی کوششوں کا مقصد کسی تصادم کو ہوا دینا نہیں بلکہ یمن کے جنوبی صوبوں میں ریاستی رٹ کو پرامن طریقے سے بحال کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام مسلح گروہ ریاستی نظم و نسق کے تحت آئیں تاکہ علاقے میں استحکام قائم ہو سکے۔

یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔

سعودی عرب نے الزام عائد کیا تھا کہ یو اے ای، سدرن ٹرانزیشنل کونسل کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ حضرموت اور المہرہ جیسے اہم صوبوں پر قبضہ کر سکے۔ ان الزامات کے بعد یمن میں جاری خانہ جنگی ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

دسمبر کے اوائل میں علیحدگی پسندوں کی غیر متوقع پیش قدمی نے یمن میں طاقت کا توازن بدل دیا تھا، جہاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جنگ جاری ہے۔

اس پیش رفت سے حوثیوں کے خلاف بننے والا اتحاد کمزور ہوا اور سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے۔

واضح رہے کہ یمن کئی برسوں سے عملی طور پر تقسیم ہے، جہاں شمالی پہاڑی علاقوں پر ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ کا کنٹرول ہے، جب کہ جنوبی حصوں میں خلیجی ممالک کی حمایت یافتہ فورسز اور جنوبی علیحدگی پسند سرگرم ہیں، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، جو کبھی خطے کی سلامتی کے دو بڑے ستون سمجھے جاتے تھے اور اوپیک کے اہم رکن بھی ہیں، حالیہ برسوں میں تیل کے کوٹوں سے لے کر جغرافیائی سیاست تک مختلف امور پر اختلافات کا شکار رہے ہیں۔

ایس ٹی سی کے بیان پر نہ تو یمن کی بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت اور نہ ہی سعودی حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔

Read Comments