شائع 03 جنوری 2026 08:52am

ایران احتجاج: ملکی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، علی شمخانی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی سلامتی کی جانب بڑھنے والے ہر مداخلت پسند ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا۔

ایران ایک بار پھر امریکا کے ریڈار پر آ گیا ہے، جہاں امریکا نے ایران کی داخلی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی پلاننگ شروع کردی۔ ایران میں جاری مظاہروں کو جواز بناتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر لیا اور مظاہرین کی حمایت کے نام پر ممکنہ کارروائی کی دھمکی دے دی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران میں پُرامن مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں تو امریکا ان کی مدد کے لیے آگے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بندوقیں تیار ہیں اور امریکا کسی بھی کارروائی کے لیے مکمل طور پر مستعد کھڑا ہے۔

امریکا نے ایران میں جاری بحران کو مداخلت کے لیے ایک گولڈن چانس قرار دیتے ہوئے اپنی حکمت عملی تیز کر دی ہے۔ تاہم امریکی دھمکیوں پر ایران کی جانب سے بھی دو ٹوک اور سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی مداخلت پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو جنم دے گی اور اس کے منفی اثرات خود امریکی مفادات پر بھی پڑیں گے۔

ادھر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سلامتی کی جانب بڑھنے والے ہر مداخلت پسند ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا۔ ایرانی قیادت کا واضح مؤقف ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایران میں جاری مظاہروں کے باعث خالات بدستور کشیدہ ہے۔ ایرانی شہروں لورستان، فسا اور ازنا میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک ایک سیکیورٹی اہلکار اور پانچ مظاہرین جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور کئی مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔

وہیں ایران کی معاشی صورتحال بھی بدترین بحران کا شکار ہے۔ ایرانی کرنسی نے پستیوں کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں اور ایک امریکی ڈالر چودہ لاکھ ریال کے برابر ہو چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں بہتر فیصد اضافہ ہوا، جب کہ طبی اشیا پچاس فیصد تک مہنگی ہو چکی ہیں، جس کے باعث عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

Read Comments