شائع 02 جنوری 2026 03:58pm

نئے سال کا پہلا ’وولف سپرمون‘ کب دیکھا جائے گا؟

نئے سال کا پہلا سپرمون ایک دلکش منظر پیش کرنے جا رہا ہے جسے ”وولف مون“ کہا جاتا ہے، جو اس بار غیر معمولی طور پر زیادہ روشن اور بڑا دکھائی دے گا۔ اس سپر مون کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سیارہ مشتری کے ساتھ ایک خوبصورت نظارے کے ساتھ دکھائی دے گا۔

فل مون اپنے مکمل عروج پر ہفتہ 3 جنوری کی صبح امریکی مشرقی وقت کے مطابق تقریباً 5 بج کر 2 منٹ پر ہوگا، تاہم ماہرینِ فلکیات کے مطابق عام ناظرین سب سے متاثر کن اور شاندار منظر رات کے وقت دیکھ سکیں گے۔

”وولف مون“ کا نام شمالی امریکا کی قدیم روایات سے جڑا ہوا ہے، جہاں جنوری کے سرد راتوں میں بھیڑیوں کے بھونکنے کو اس چاند سے منسوب کیا جاتا تھا۔ یورپ کے بعض علاقوں میں اس چاند کو ’کولڈ مون‘ اور ’ہارڈ مون‘ بھی کہا جاتا ہے، جو موسم کی شدت کی عکاسی کرتا ہے۔

سالِ نو کے اس فل مون کو سپر مون اس لیے کہا جا رہا ہے کہ یہ زمین کے ’قریب ترین مقام، یعنی پیریجی کے آس پاس واقع ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہ عام فل مون کے مقابلے میں کچھ بڑا اور نمایاں طور پر زیادہ روشن دکھائی دے گا۔ یہ مسلسل آنے والے سپر مونز کی کڑی کا چوتھا سپر مون ہے، مگر 2026 کا پہلا سپر مون ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔ اس سے قبل آخری سپر مون نومبر میں دیکھا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فل مون زمین کے پیری ہیلین کے بھی قریب ہے، یعنی وہ وقت جب زمین سال میں ایک بار سورج کے سب سے قریب ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کا براہِ راست اثر موسم پر نہیں پڑتا، مگر فلکیاتی لحاظ سے یہ ایک منفرد اتفاق ضرور ہے۔

شمالی نصف کرے میں یہ فل مون پورے سال کے دیگر فل مونز کے مقابلے میں آسمان پر سب سے اونچا سفر طے کرے گا، جس کے باعث یہ زیادہ دیر تک نظر آتا رہے گا۔

اس نظارے کے لیے کسی دوربین یا خاص آلات کی ضرورت نہیں۔ صرف مشرق کی جانب کھلے آسمان کا انتخاب کریں اور شام کے وقت چاند کو آہستہ آہستہ گہرے ہوتے آسمان میں، بلند ہوتے دیکھیں۔

یوں جنوری کا یہ ”وولف سپر مون“ نہ صرف نئے سال کا فلکیاتی آغاز بنے گا بلکہ آسمان سے جھانکتی کائناتی وسعت کا احساس بھی دلائے گا، جو انسان کو سوچنے پر مجبور کرے گا کہ وہ کس قدر عظیم نظامِ قدرت کا حصہ ہے۔

Read Comments