اپ ڈیٹ 02 جنوری 2026 11:43am

ٹوپی پہنی ویڈیو پر جاوید اختر تِلملا اُٹھے، کارروائی کا فیصلہ کرلیا

بھارت کے معروف نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے ایک جعلی اے آئی ویڈیو کے معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے، جس میں انہیں ایک ٹوپی پہنے اوردعویٰ کرتے دکھایا گیا ہے کہ وہ آخرکار خدا کی طرف پلٹ آئے ہیں۔

جاوید اختر نے اس جعلی ویڈیو کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ ’ایک جعلی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں میرے سر پر ٹوپی پہنے دکھایا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ میں آخرکار خدا کی طرف لوٹ آیا ہوں۔ یہ سب بکواس ہے۔ میں سنجیدگی سے اس معاملے کو سائبر پولیس کے پاس رپورٹ کرنے پر غور کر رہا ہوں اور اس جعلی خبر کے ذمہ دار شخص اور وہ چند افراد جو اسے آگے شیئر کررہے ہیں، عدالت میں لے جانے کا ارادہ رکھتا ہوں کیونکہ اس سے میری ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچا ہے۔‘

یاد رہے کہ چند روز قبل جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی کے درمیان ”کیا خدا موجود ہے؟“ کے عنوان سے ایک عوامی بحث ہوئی تھی۔ جاوید اختر نے بحث میں عقلی دلائل اور شواہد کی بنیاد پر دیانت داری اور مذہبی عقائد پر سوال اٹھائے تھے، جبکہ مفتی ندوی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جوابات دیے تھے۔ خدا کے وجود کے موضوع پر ہونے والا فکری مکالمہ اِس وقت بھی انٹرنیٹ پر زیرِ بحث ہے اور اس پر تبصروں اور وڈیوز کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین نے جاوید اختر کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی گئی جعلی ویڈیوز ایک خطرناک رجحان ہیں جو غلط معلومات پھیلا کر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا، ”یہ زہریلی معلومات ہیں، شکریہ جو آپ نے اس کی نشاندہی کی اور قانونی کارروائی کی دھمکی دی۔“

کچھ لوگوں نے لکھا، ”ہم آپ کے خیالات سے اکثر اختلاف کرتے ہیں، مگر یہاں ہم مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے اور فوری کارروائی ہونی چاہیے۔“

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جھوٹ اور حقیقت کے درمیان یہ جنگ صرف جاوید اختر تک محدود نہیں، بلکہ ہر صارف کی سوچ پر اثر ڈال رہی ہے اور یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر تصویر اور ویڈیو پر اعتبار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

Read Comments