اپ ڈیٹ 02 جنوری 2026 09:58am

مریخ پر پانی سے بننے والے 8 غاروں کی دریافت

چینی سائنس دانوں کی ایک تازہ سائنسی پیش رفت نے مریخ کے بارے میں ہمارے تصورات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سرخ سیارے کے شمالی علاقے ہیبرس ویلیز میں آٹھ ایسے غاروں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ کبھی زیرِ زمین پانی کی وجہ سے وجود میں آئے تھے۔ اگر یہ نتیجہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ مریخ پر پانی سے بننے والے غاروں کی پہلی معلوم مثال ہوگی۔

ارتھ اسکائی آرگنائزیشن کے مطابق اب تک مریخ پر جتنے بھی غار دریافت ہوئے تھے، ان کی تشکیل کو آتش فشانی سرگرمیوں سے جوڑا جاتا رہا ہے، مگر یہ نئی دریافت اس سوچ سے ہٹ کر ہے۔ محققین کے مطابق ان غاروں کی ساخت زمین پر پائے جانے والے کارسٹ غاروں سے مشابہ ہے، جو عام طور پر چونے یا دیگر حل پذیر چٹانوں کے پانی میں گھلنے سے بنتے ہیں۔ مریخ پر اس قسم کی ساخت کا ملنا وہاں کے قدیم جغرافیائی اور موسمی حالات پر اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

یہ تحقیق 30 اکتوبر 2025 کو معروف سائنسی جریدے دی ایسٹروفزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہوئی۔ اس مطالعے میں ناسا کے مختلف سیٹلائٹس سے حاصل کردہ ڈیٹا استعمال کیا گیا، جن میں اب ریٹائر ہو چکا مارس گلوبل سروے بھی شامل ہے۔ تصاویر اور تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ آٹھوں ساختیں عام شہابی گڑھوں جیسی نہیں، کیونکہ ان کے کناروں پر نہ تو اونچی دیواریں ہیں اور نہ ہی ملبے کے ڈھیر۔

سائنس دانوں نے ان سوراخوں کو دراصل اسکائی لائٹس قرار دیا ہے، یعنی ایسے مقامات جہاں زمین بیٹھنے سے نیچے موجود خالی غار کھل گیا ہو۔ مزید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کے اردگرد موجود چٹانوں میں کاربونیٹس اور سلفیٹس پائے جاتے ہیں، جو عام طور پر پانی کی موجودگی میں بنتے ہیں۔ یہی شواہد اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں کہ کبھی مریخ کے زیرِ زمین حصوں میں پانی بہتا رہا ہوگا۔

اس دریافت کی سب سے دلچسپ جہت زندگی کے امکان سے جڑی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریخ پر کبھی خرد حیاتیات نے جنم لیا تھا تو انہیں سیارے کے سخت حالات، جیسے تیز شمسی تابکاری، شدید گرد آلود طوفان اور درجۂ حرارت کی انتہا سے بچنے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی ضرورت رہی ہوگی۔ ایسے میں زیرِ زمین غار ایک مستحکم اور محفوظ ماحول فراہم کر سکتے تھے۔

تحقیق کاروں کے مطابق یہ قدیم کارسٹ غار نہ صرف پانی بلکہ ضروری کیمیائی عناصر کو بھی سمیٹے ہوئے ہو سکتے ہیں، جو زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان غاروں کو مستقبل کی مریخی مہمات کے لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، کیونکہ یہاں ماضی کی ممکنہ زندگی کے آثار محفوظ رہنے کا امکان زیادہ ہے۔

یوں یہ دریافت صرف مریخ کی ارضیاتی تاریخ ہی نہیں بدلتی، بلکہ کائنات میں زندگی کی تلاش کے سفر کو بھی ایک نئی سمت دیتی ہے۔

Read Comments