شائع 01 جنوری 2026 10:28pm

پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، بلومبرگ کی تصدیق

امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی میں واضح کمی اور پالیسی سطح پر استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دسمبر میں افراطِ زر توقعات سے کم رہا، جسے معاشی نظم و نسق میں بہتری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

عالمی مالیاتی اعدادوشماراورمارکیٹس پر نظر رکھنے والے معتبر ادارے بلومبرگ نے پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق اپنی تازہ جائزہ رپورٹ میں مہنگائی میں نمایاں بہتری اور پالیسی استحکام کی تصدیق کر دی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق پاکستان میں قیمتوں کا مجموعی استحکام آ رہا ہے اور معاشی نظم و نسق بہتر ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2025 میں افراطِ زر 5.6 فیصد رہا، جو نہ صرف توقعات سے کم ہے بلکہ نومبر میں ریکارڈ کیے گئے 6.1 فیصد کے مقابلے میں بھی واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غذائی افراطِ زر 3.24 فیصد تک محدود رہا، جس کی بڑی وجہ خوراک کی بہتر دستیابی اور سپلائی چین میں بہتری بتائی گئی ہے۔ بلومبرگ کا کہنا ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں استحکام نے مجموعی مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بلومبرگ کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم مہنگائی نے مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور حکومتی پالیسی سمت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسی تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان پالیسی ریٹ کو تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر لے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کم شرحِ سود کے باعث کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ نسبتاً سازگار ہونے کی توقع پیدا ہوئی ہے، جب کہ قیمتوں کے استحکام نے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے مثبت اشارے دیے ہیں اور معاشی غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق کم مہنگائی کے باعث عوام کی قوتِ خرید میں بہتری اور صارفین کے لیے ریلیف کے امکانات بھی بڑھے ہیں۔ دسمبر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی اقدامات کے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مہنگائی کا مسلسل نیچے آنا مڈ ٹرم معاشی استحکام اور بہتر گورننس کی بنیاد مضبوط ہونے کا اشارہ ہے، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

Read Comments