پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی اثاثوں اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ
پاکستان اور بھارت نے یکم جنوری اور یکم جولائی کے شیڈول کے مطابق اپنے اپنے قیدیوں اور جوہری تنصیبات کی فہرستیں ایک دوسرے کو فراہم کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تبادلہ 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت بیک وقت اسلام آباد اور نئی دہلی میں ہوا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ عمل دونوں ممالک کے قونصلر دفاتر کے تعاون سے مکمل کیا گیا۔ قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلے کا مقصد دونوں ممالک میں قیدیوں کے قانونی اور انسانی حقوق کو یقینی بنانا اور قونصلر رسائی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت 424 پاکستانی شہری بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ جن میں 33 پاکستانی ماہی گیر شامل ہیں جو مچھلی کا شکار کرتے ہوئے غلطی سے بھارتی سمندری حدود میں چلے گئے۔
اس کے علاوہ 391 دیگر پاکستانی شہری بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔
پاکستانی حکام نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ سزا پوری کرنے پر شہریوں کو جلد واپس بھیجا جائے۔
اسی دوران، دونوں ممالک نے جوہری تنصیبات کی تفصیلات کا تبادلہ بھی کیا، جس کا مقصد باہمی اعتماد کو مضبوط کرنا اور اسلحہ کنٹرول کے معاہدوں کے تحت معلومات کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تعاون اور شفافیت کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔
تبادلے کے شیڈول کے مطابق ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو یہ عمل مکمل کیا جاتا ہے تاکہ دونوں ممالک کو باقاعدگی سے تازہ ترین معلومات حاصل رہیں اور قیدیوں کی صورتحال پر نظر رکھی جا سکے۔ اس اقدام کو امن اور اعتماد سازی کے سلسلے میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔