لائیو پروگرام میں احسن اقبال کو کس نے روکا؟ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں اور وضاحتیں
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز پر لائیو پروگرام کے دوران ہونے والی مداخلت پر وضاحت سامنے آئی ہے۔ وہیں سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ پروگرام کے دوران ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔
احسن اقبال کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کررہی ہے جس پر صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر لوگ تجسس میں مبتلا ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ لائیو پروگرام میں خلل ڈالنے والا شخص آخر کون تھا۔
ایک ایکس صارف لکھتی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو ایک پروگرام کے دوران نامعلوم شخص کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں، لہجہ عام آدمی جیسا نہیں لگتا۔
ایک صارف نے لکھا کہ، “کسی زاویے سے ایسا نہیں لگتا کہ احسن اقبال کو کمرے میں بچوں نے روکا ہو۔ کیوں ایک بچہ گھر کے بڑے سے بدمعاشی کرے گا اور بند کرو ایسا کیوں کہے گا؟“
ایک اور صارف نے لکھا کہ کیا یہ خدانخواستہ وفاقی وزیر اور پروفیسر احسن اقبال پر حملہ ہے؟
خیال رہے نجی ٹی وی چینل کے معروف اینکر وسیم بادامی کے پروگرام کی براہِ راست نشریات کے دوران اُس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی تھی جب وفاقی وزیر احسن اقبال کی ویڈیو کال اچانک منقطع ہوگئی۔ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال وسیم بادامی کے لائیو پروگرام میں بذریعہ ویڈیو کال شریک تھے۔ پروگرام کے دوران رات 11 بج کر 16 منٹ پر اچانک ایک نامعلوم شخص وہاں آیا، جسے احسن اقبال نے گفتگو کے دوران نظریں اٹھا کر دیکھا۔
اگلے ہی لمحے اس شخص کی آواز سنائی دی، جس نے کہا: ’’بند کرو، بند کرو اسے۔‘‘ اسی دوران اس نے موبائل فون پر جھپٹنے کی کوشش کی، تاہم احسن اقبال نے ہڑبڑاہٹ میں موبائل فون اٹھایا جس کے نتیجے میں ویڈیو کال منقطع ہوگئی۔
اس اچانک واقعے پر پروگرام کے میزبان بھی پریشان نظر آئے اور انہوں نے سوال کیا کہ آیا احسن اقبال اپنے گھر سے پروگرام میں شریک تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کو معاملے کی تفصیلات معلوم کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد پروگرام کو وقفے کے لیے روک دیا گیا۔
تقریباً سات منٹ کے وقفے کے بعد وسیم بادامی دوبارہ لائیو ہوئے تاہم اس دوران احسن اقبال کے واقعے پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ وقفے کے بعد احسن اقبال نے پروگرام دوبارہ جوائن نہیں کیا جبکہ پروگرام کے مہمان بھی تبدیل ہو چکے تھے۔ اس وقت پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی، صحافی اطہر کاظمی اور عامر الیاس رانا پروگرام میں شریک تھے۔
بعد ازاں رات 11 بج کر 46 منٹ پر احسن اقبال نے دوبارہ پروگرام جوائن کیا۔ وسیم بادامی کے استفسار پر انہوں نے کہا کہ ’’وہ ذرا کوئی۔۔۔ ہوگیا تھا لیکن ’آل از ویل‘ (اب سب ٹھیک ہے)۔ تاہم جملے کا درمیانی حصہ واضح طور پر سنا نہیں جا سکا۔ اس پر وسیم بادامی نے کہا کہ وہ فی الحال مزید تفصیل نہیں پوچھیں گے۔
واقعے کے بعد احسن اقبال نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس معاملے سے متعلق وضاحتی پوسٹ بھی جاری کی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ، “آپ کی تشویش پر مبنی پیغامات کا شکریہ۔ براہِ راست نشریات کے دوران مختصر تعطل اس وقت پیش آیا جب کوئی شخص بحث میں مصروف تھا اور اسے علم نہیں تھا کہ میں لائیو آن ایئر ہوں۔
احسن اقبال نے پوسٹ میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ میں کچھ ہی دیر بعد دوبارہ انٹرویو میں شامل ہوگیا تھا۔ اُمید ہے کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ نہیں دیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا میری بھی بات ہوئی ہے احسن اقبال سے تو انہوں نے کہا کہ کوئی بچہ غیر متوقع طور پر کمرے میں داخل ہوگیا تھا، سب کچھ ٹھیک ہے اور انہوں نے دوبارہ شو بھی جوائن کیا۔