اپ ڈیٹ 20 دسمبر 2025 06:02pm

توشہ خانہ 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی

اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت 10،10 سال قید کی سزا سنائی ہے، جبکہ دفعہ 2، 5 اور 47 کے تحت دونوں پر سات، سات سال کی الگ الگ قید بھی مقرر کی گئی ہے۔ عدالت نے دونوں پر فی کس ایک کروڑ 64 لاکھ 500 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید چھ، چھ ماہ قید کی سزا ہوگی۔

توشہ خانہ ٹو کیس کے تحریری فیصلے کے مطابق عمران خان کو زائدالعمر ہونے اور بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے پر کم سزا دی گئی ہے، جبکہ مجرموں کے عرصہِ حوالات کو بھی سزا میں شامل کرلیا گیا ہے۔

ہفتے کو اسپیشل جج سینٹرل شاہ رُخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ توشہ خانہ ٹو کیس کی 80 سے زائد سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہوئیں، سرکار کی جانب سے وفاقی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی، بیرسٹر عمیر مجید ملک، بلال بٹ اور شاہویز گیلانی نے کیس کی پیروی کی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا کیس ان کے وکیل ارشد تبریز، قوثین فیصل مفتی اور بیرسٹر سلمان صفدر نے لڑا۔

توشہ خانہ ٹو کیس کے 59 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلے میں عدالت نے وزارتِ خارجہ کے ذریعے حاصل کیے گئے خط کا بھی ذکرکیا، ایف آئی اے نے غیر ملکی کمپنی سے جائیداد کی اصل قیمت کا تعین کروایا، تحریری فیصلے کے مطابق سات کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد کی انڈرانوائسنگ کی گئی، جائیداد کی قیمت 59 لاکھ ظاہر کرکے 69 لاکھ روپے میں ظاہر شدہ ڈیل مکمل کی گئی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان نے اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے نجی ویلیوایٹر سے کم قیمت لگوائی، ظاہر شدہ قیمت کا صرف 50 فیصد جمع کرا کے جائیداد اپنے قبضے میں لی، جسے عدالت نے بدنیتی اور مالی بدعنوانی قرار دیا۔

عدالت نے استغاثہ کے پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر دونوں ملزمان کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے سزا سنائی۔ ملزمان پرمجموعی طور پر ساڑھے 3 کروڑروپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی 37 دن تک اڈیالہ جیل میں نیب کی تحویل میں رہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد نیب نے 20 اگست کو احتساب عدالت میں توشہ خانہ ٹو کیس کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ توشہ خانہ ٹو کیس میں 12 دسمبر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ سے نیب ترامیم بحالی فیصلے کے بعد 9 ستمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس ایف آئی اے اینٹی کرپشن عدالت کو منتقل ہوا۔ ایف آئی اے نے توشہ خانہ ٹو کیس میں اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5 اور پی پی سی کی دفعہ 409 شامل کیں۔ جس کے بعد 16 ستمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل شروع ہوا، اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے 16 ستمبر کو توشہ خانہ ٹوکیس کی پہلی سماعت اڈیالہ جیل میں کی۔

توشہ جانہ ٹو کیس کا ٹرائل تقریباً ایک سال اڈیالہ جیل میں چلا، کیس میں کُل 21 گواہان تھے، جن میں سے 18 گواہان کے بیانات قلمبند کرکے ان پر جرح مکمل کی گئی۔

اہم گواہان میں سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر (ر) محمد احمد، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی اور بانی پی ٹی آئی کےسابق پرنسپل سیکرٹری انعام اللہ شامل تھے۔ ایف آئی اے پراسکیوشن ٹیم نے چار گواہان کو ترک کردیا تھا۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2021 میں سعودی عرب کے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان سے حاصل کردہ بلگاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا۔

عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق یہ جیولری سیٹ وزیر اعظم کی اہلیہ کو تحفے کے طور پر دیا گیا تھا اور اس میں ایک بریسلٹ، انگوٹھی، جھمکے اور نیکلس شامل تھے۔ انگوٹھی میں گلابی رنگ کا ہیرا جڑا ہوا تھا، بریسلٹ میں بھی گلابی ہیرے اور دیگر قیمتی جواہرات لگے ہوئے تھے جبکہ نیکلس میں بیش قیمت موتی اور ہیرے شامل تھے۔

عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اس بلگاری جیولری سیٹ کی اصل قیمت سات کروڑ پندرہ لاکھ روپے سے زائد تھی، جس کے انہوں نے پرائیویٹ فرم سے 58 لاکھ روپے قیمت لگوائی اور 29 لاکھ روپے دے کر تحفہ اپنے پاس رکھ لیا۔

ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جیولری سیٹ کی قیمت کم ظاہر کی تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ قیمت کا تعین پرائیویٹ اپریزر صہیب عباس اور پھر کسٹم حکام کے ذریعے کیا گیا۔ پرائیویٹ اپریزر صہیب عباس کے مطابق درخواست گزار کے پرائیویٹ سیکرٹری انعام شاہ نے سیٹ کی قیمت کی کم تشخیص کیلئے دباؤ ڈالا۔

دفتر خارجہ اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے سے حاصل شدہ ریکارڈ کے مطابق اس سیٹ کی اصل مالیت بہت زیادہ تھی۔

بشریٰ بی بی کو 31 جنوری 2024 کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے خود جیل جا کر گرفتاری دی۔ اس دوران کمشنر اسلام آباد نے بنی گالا میں سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا اور بشریٰ بی بی کو وہاں منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کر دی، مگر نیب نے 13 جولائی 2024 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دوبارہ توشہ خانہ ٹو کیس میں گرفتار کر لیا۔

3 فروری 2024 کو اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ نے دوران عدت نکاح کے مقدمے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا سنائی، تاہم 13 جولائی 2024 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے یہ سزا کالعدم قرار دے کر دونوں کو بری کر دیا۔ اسی دن نیب نے دونوں کو توشہ خانہ ٹو کے نئے ریفرنس میں گرفتار کیا، جس میں سات گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف کے خلاف قانون کے تحت رکھنے اور بیچنے کے الزامات شامل تھے۔

12 ستمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی تین رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی۔ سپریم کورٹ کے نیب ترامیم کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت نے یہ ریفرنس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کر دیا تھا، جبکہ قبل ازیں عدالت نے ریفرنس کا ریکارڈ اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

23 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کی ضمانت 10،10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی، مگر روبکار جاری نہ ہونے کی وجہ سے رہائی ممکن نہیں ہوئی۔ بعد ازاں 20 نومبر 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی 10 لاکھ روپے کے مچلکے اور دو ضامنوں کے عوض ضمانت منظور کی، اور 22 نومبر 2024 کو اڈیالہ جیل سے ان کی رہائی کے لیے روبکار جاری کی گئی۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کے خلاف توشہ خانہ کیس کے علاوہ 16 دیگر مقدمات بھی درج ہیں، جن میں انہوں نے ضمانت حاصل نہیں کی۔ ان مقدمات میں تھانہ کوہسار میں چار، تھانہ نون میں دو، کورال میں ایک، تھانہ گولڑہ، کراچی کمپنی، آئی نائن، شہزاد ٹاؤن، سنگجانی اور تھانہ رمنا میں بھی ایک ایک مقدمہ شامل ہے۔

Read Comments