چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کا عمل شروع ہوگیا ہے: خواجہ آصف
چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کے متعلق وفاقی حکومت کا مؤقف سامنے گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کا عمل شروع کردیا گیا ہے، نوٹی فکیشن اپنے مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائے گا۔
اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن سے متعلق غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، مزیدکسی بھی اندازوں یا قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نے کہا کہ سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن سے متعلق پراسیس کا آغاز کیا جا چکا ہے، نوٹیفکیشن اپنے مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائے گا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد وطن واپس پہنچ رہے ہیں، اُن کی واپسی پر نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے رواں ماہ 13 نومبر کو 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کرکے اسے پاکستان کے آئین کا حصہ بنایا تھا، جس کے بعد ملک کے 2 اہم اداروں، افواج پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کے انتظامات میں تبدیلیاں آئیں۔
27ویں ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے ختم کرکے ان کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا گیا، جو آرمی چیف کا نیا نام ہوگا اور اسی عہدے کے تحت جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی ذمہ داریاں بھی آئیں گی۔
پاکستان غزہ میں فوج بھجوانے کو تیار ہے؛ افغانستان میں کلین اپ آپریشن شروع کرنے والے تھے: اسحاق ڈار
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ماضی میں مسلح افواج میں سب سے بڑا سمجھا جاتا تھا، لیکن زیادہ تر علامتی نوعیت کا تھا۔ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں تاریخی کامیابی کے بعد جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ نئی ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کا عہدہ اور مراعات آئینی طور پر واضح کر دی گئی ہیں۔
جنرل سید عاصم منیر نے نومبر 2022 میں آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا، جس کی مدت 3 برس تھی۔ ترمیم کے بعد تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت بڑھا کر 5 برس کر دی گئی ہے۔
آرمی چیف کے عہدے کو چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کی مدت 5 برس ہوگی اور یہ مدت نوٹیفیکیشن کے اجرا سے شروع ہوگی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نومبر 2030 تک چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر فائز رہیں گے، جبکہ ان کا فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات ہوگا۔