شائع 30 نومبر 2025 03:11pm

این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخاب کو متنازع بنانے کی کوششیں بے بنیاد ہیں، الیکشن کمیشن

خیبرپختونخوا حکومت نے این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی انکوائری کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت اور امیدواروں کے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے این اے 18 ہری پور کے ضمنی الیکشن میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی کو انکوائری کا مکمل اختیار دے دیا ہے۔

شفیع جان نے بتایا کہ انکوائری کا دائرہ وسیع ہوگا جس میں کلاس فور ملازمین سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک تمام متعلقہ افراد شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اہلکار یا افسر دھاندلی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو یقین ہے کہ اس کے ماتحت ملازمین اور افسران دھاندلی میں شامل نہیں تھے، تاہم شفافیت کے لیے مکمل انکوائری ضروری ہے۔

شفیع جان کے مطابق مبینہ دھاندلی کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھی بھیجا جا رہا ہے، جبکہ پریذائیڈنگ افسروں کے بیانات اور بیان حلفی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ این اے 18 ہری پور میں بے بنیاد اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق انتخابات کو متنازع بنانے کی کوششیں حقائق کے منافی ہیں۔

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا معاملہ، الیکشن کمیشن کا محفوظ فیصلہ جاری

ترجمان نے کہا کہ ڈی آر او اور آر او کی تعیناتی کو سازش قرار دینا درست نہیں، اور اگر کسی فریق کو اعتراض تھا تو بروقت الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جانا چاہیے تھا۔ الیکشن کمیشن نے فارم 45 پہلے سے تیار ہونے کے الزام کو بھی غلط اور حقائق کے خلاف قرار دیا۔

الیکشن کمیشن میں دو نئی سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہو گئیں

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ تمام پریذائیڈنگ افسران، انتخابی عملہ اور سیکیورٹی اسٹاف مکمل طور پر صوبائی حکومت نے فراہم کیا تھا۔ ان کے مطابق عملے کی کمی کے باعث کبھی کبھار تعیناتی کے فیصلے محدود آپشنز میں کرنا پڑتے ہیں، جسے سازش قرار دینا درست نہیں۔

Read Comments