اپ ڈیٹ 30 نومبر 2025 12:38pm

وادی سندھ کی 5 ہزار سال قدیم تہذیب اچانک ختم کیسے ہوئی؟ سائنس دانوں کو ممکنہ جواب مل گیا

یہ ایک دلچسپ اور اہم روداد ہے جو ہمیں انسانی تہذیب اور فطرت کے تعلق کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ وادی سندھ کی ایک قدیم اور عظیم تہذیب آج بھی کئی راز لیے ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ محققین اب اس پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ یہ تہذیب اچانک کیوں غائب ہو گئی۔

وادی سندھ کی تہذیب، جسے ”سندھو سرسوتی تہذیب“ بھی کہا جاتا ہے، تقریباً پانچ ہزار سال پہلے برِصغیر میں پھلی پھولی۔ یہ دنیا کی پہلی شہری تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ ان کے شہر جدید تھے، جہاں نکاسی آب کے نظام موجود تھے اور دھات کے فن میں اس قدر مہارت تھی کہ ’ڈانسنگ گرل‘ جیسے شاہکار آج بھی ہمیں حیران کرتے ہیں۔

اس تہذیب کی ترقی اور اچانک زوال کا راز صدیوں سے ماہرین آثار قدیمہ کے لیے ایک پہیلی رہا۔ حالیہ تحقیق، جس کی قیادت آئی آئی ٹی گاندھینگر کے وِمل مشرا نے کی، واضح ثبوت پیش کرتی ہے کہ مسلسل اور شدید خشک سالیوں نے اس تہذیب کے آہستہ آہستہ ختم ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔ ’کمیونیکیشنز ارتھ اینڈ انوائرنمنٹ‘ کے جریدے میں شائع ہونے والا گیارہ صفحات پر محیط تحقیقی مقالہ بتاتا ہے کہ پانی کی کمی ہی وہ بنیادی وجہ تھی جو اس پروان چڑھتی تہذیب کے زوال کی سب سے بڑی وجہ تھی۔

لاڑکانہ میں قدیم تہذیب جھوکر کے دڑو سے پکی مٹی سے بنے برتن بر آمد

وادی سندھ کی زندگی کا دارومدار دریائے سندھ پر تھا۔ یہ نہ صرف کھیتی باڑی بلکہ تجارت اور روزمرہ زندگی کے لیے بھی اہم تھا۔ لیکن تاریخی موسمیاتی ریکارڈز اور جدید کلائمٹ ماڈلز سے پتہ چلتا ہے کہ علاقے میں بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ محققین نے غاروں میں بننے والی پتھریں اور جھیلوں کی تہہ شدہ مٹی کے شواہد دیکھ کر ہزاروں سالوں کی بارش اور دریاؤں کے بہاؤ کا اندازہ لگایا۔

تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا کہ اوسط سالانہ بارش میں 10 سے 20 فیصد کمی ہوئی اور درجہ حرارت میں تقریباً 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا۔ چار مرتبہ بڑی خشک سالی سے واسہ پڑا، جن میں ہر خشک سالی تقریباً 85 سال یا اس سے زیادہ رہی۔ سب سے طویل خشک سالی 164 سال جاری رہی اور وادی سندھ کے 91 فیصد علاقے کو متاثر کیا۔ یہ تمام خشک سالی کے دور ایک الگ واقعہ نہیں بلکہ پانی کی کمی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کا حصہ تھیں۔

شروع میں لوگ زیادہ بارش والے علاقوں میں آباد تھے، لیکن جب پانی کی کمی یا خشک سالی اور قحط کی وجوہات بڑھیں، تو لوگ دریائے سندھ کے قریب منتقل ہو گئے تاکہ پانی کے حاصل کرنے کے ذرائع تک پہنچ سکیں۔ تاریخی شواہد اور پودوں کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کھیتی باڑی میں تبدیلی لائے، گندم اور جو کی بجائے خشک سالی برداشت کرنے والی فصلیں اگانے لگے، مگر یہ اقدامات طویل خشک سالیوں کے اثرات کو کم نہ کر سکے۔

گلوبل کلائمٹ میں ہونے والی تبدیلیاں، جیسے شمالی اٹلانٹک کی سردی، زمین اور سمندر کے درجہ حرارت میں تبدیلی، مون سون یا بارشون میں کمی اور ہوا میں نمی کی کمی جیسے عوامل بہت اثر انداز ہوئے۔

اہم بات یہ ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب کا زوال اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ ایک تدریجی اور پیچیدہ عمل تھا۔ لوگ نقل مکانی، فصلوں کی تبدیلی اور تجارت کے ذریعے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتے رہے۔ بڑے شہر خالی ہوئے اور لوگ چھوٹے دیہاتوں میں بٹ گئے۔

یہ تمام عوامل وادی سندھ کی تہذیب کے خاتمے یا تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس طرح ماحولیاتی دباؤ اور پانی کی کمی نے ایک شاندار تہذیب کو آہستہ آہستہ چھوٹے دیہاتوں میں تقسیم کر دیا، جس سے یہ تہذیب مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے ایک نئے روپ میں بدل گئی۔

Read Comments