پاکستان غزہ میں فوج بھجوانے کو تیار ہے؛ افغانستان میں کلین اپ آپریشن شروع کرنے والے تھے: اسحاق ڈار
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان ہے کیا کہ پاکستان غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام فلسطینی انتظامیہ اور ان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے، پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک اس کردار کے لیے تیار نہیں۔
اسلام آباد میں ہفتے کو ہونے والی پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اس فورس میں شمولیت سے پہلے اس کے مینڈیٹ، ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) اور کردار کی مکمل وضاحت چاہتا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق جب تک ان نکات پر مکمل اتفاق نہیں ہوتا پاکستان کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرے گا۔
اُنہوں نے بتایا کہ ملائیشیا کو بھی آئی ایس ایف کے مجوزہ کردار پر اعتراض ہے، اس لیے عالمی سطح پر مزید مشاورت ضروری ہے۔
اسی پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ چند ہفتے قبل پاکستان افغانستان کے اندر کلین اپ آپریشن کرنے کے قریب تھا، لیکن قطر نے مداخلت کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی جس کے باعث کارروائی روک دی گئی۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’قطر کی وزارتِ خارجہ ہر گھنٹے ہمیں رابطہ کر رہی تھی اور انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ پاکستان کارروائی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ قطر کے کہنے پر ہم نے آپریشن مؤخر کیا، لیکن بدقسمتی سے اس ثالثی سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔‘
اسحاق ڈار نے اپنے سخت مؤقف کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت آنے کے بعد سے پاکستان نے اپنے چار ہزار فوجی جوانوں کی لاشیں اٹھائی ہیں جبکہ بیس ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ’میں کس منہ سے کہوں کہ ہم آنکھیں بند رکھیں؟ افغانستان کو بطور حکومت اپنی پالیسی پر ضرور نظرثانی کرنا ہو گی۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی نہیں چاہتا کہ بھائی کے ملک میں گھس کر کارروائی کرے، مگر مسلسل بڑھتے ہوئے حملے برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ ’یہ ان کی غلط فہمی ہے کہ ہم کارروائی نہیں کر سکتے۔ اللہ نے ہمیں بھرپور طاقت دی ہے۔‘
وزیرِ خارجہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ نے انہیں فون کر کے تجویز دی کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان، قطر، ترکیہ، ایران اور دیگر ممالک مل کر بیٹھیں تاکہ کوئی حل نکل سکے۔
پریس کانفرنس کے آغاز میں اسحاق ڈار نے روس، بحرین اور یورپی یونین کے اپنے حالیہ دوروں کی تفصیلات بھی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر واضح مؤقف رکھا ہے کہ افغانستان میں امن پورے خطے کے لیے ناگزیر ہے۔ ’ہم نے افغان حکام کو بار بار کہا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ یورپی یونین نے بھی ہمارے مؤقف کی حمایت کی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ماسکو اجلاس، ایس سی او کانفرنس اور نیٹو حکام سے ملاقاتوں میں پاکستان نے علاقائی سلامتی، توانائی کے منصوبوں اور معاشی تعاون پر کھل کر بات کی۔ روس کے دورے میں انہوں نے صدر ولادیمیر پوتن کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔
اسحاق ڈار نے آخر میں امید ظاہر کی کہ وہ وقت دور نہیں جب دہشت گردی کے خلاف مسلمان اور غیر مسلم ممالک مل کر کام کریں گے۔ ’لیکن سب سے بہتر یہ ہوگا کہ ہم پہلے اپنے خطے کو پرامن بنا لیں۔‘