اسرائیلی ڈرون حملے میں لکڑیاں اکٹھی کرتے2 ننھے فلسطینی بھائی شہید
غزہ میں ہفتے کے روز اسرائیلی حملے نے دو معصوم جانیں لے لیں۔ طبی عملے اور لواحقین کے مطابق 10 سالہ فادی ابو آسی اور 12 سالہ گوما ابو آسی خان یونس کے مشرقی علاقے میں اس وقت نشانہ بنے جب وہ اپنے وہیل چیئر پر بیٹھے والد کے لیے آگ جلانے کی غرض سے لکڑیاں جمع کر رہے تھے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں زمینی، فضائی اور بحری حملے کیے، جن میں خان یونس بھی شامل ہے۔
خان یونس میں کیے گئے ڈرون حملے میں دو سگے فلسطینی بھائی اس وقت نشانہ بنے جب وہ گھر کے قریب لکڑیاں اکٹھی کر رہے تھے۔
بچوں کے چچا محمد ابو آسی نے رائٹرز کو بتایا کہ دونوں بھائی روزانہ کی طرح لکڑیاں لینے نکلے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’وہ بچے تھے… ان کا کیا قصور تھا؟ نہ ان کے پاس میزائل تھے نہ بم۔ وہ صرف اپنے والد کے لیے لکڑیاں لے کر آ رہے تھے۔‘
جنازے کا المناک منظر
جنازے کے دوران دونوں بچوں کے والد اپنے ایک بیٹے کے جسد خاکی پر فریاد کرتے رہے۔ سفید کفن سے بچے کا چہرہ نمایاں کیا گیا تھا، جسے دیکھ کر ان کے والد پر غشی طاری ہوتی رہی۔
غزہ میں اموات 70 ہزار سے تجاوز کر گئیں، وزارتِ صحت کی تصدیق
واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیلی فوج اب تک 350 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔
قطر نے اسرائیلی حملے کیخلاف عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کر لیا
دوسری جانب غزہ کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے دو مزید فلسطینیوں کی لاشیں بھی نکالی گئی ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ماحول اب بھی شدید خوف، تباہی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جبکہ شہری جنگ بندی معاہدے کے باوجود مسلسل حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔