اپ ڈیٹ 29 نومبر 2025 09:14pm

افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کریں یا انہیں کہیں دور لے جائیں: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان کے حوالے کریں، ایسا نہیں کر سکتے تو پھر انہیں کہیں دور لے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کو سبق سکھا چکے ہیں اور ان سے نمٹنا کوئی مسئلہ نہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اپنے حالیہ بین الاقوامی دوروں اور اجلاسوں کے تجربات سے متعلق تفصیل پیش کی۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے چند دنوں میں انہوں نے مختلف ممالک کے دورے کیے اور گزشتہ دس سے بارہ دن انتہائی مصروف گذرے۔ ان دوروں کے دوران انہوں نے اجلاسوں میں شرکت کی، جس کا سب سے پہلا موقع ماسکو میں ملا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بحرین اور برسلز کے دورے بھی کیے۔ انھوں نے زور دیا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایس سی او سربراہان حکومت کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی گئی اور اس اجلاس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات پیش کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صدر پیوٹن نے بھی شریک وفود کے سربراہان سے ملاقات کی۔ پاکستانی وفد نے روس، بیلجیئم اور بحرین کے دورے کیے اور ملاقاتوں میں ایس سی او بینک کے قیام پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ ماسکو میں سربراہان حکومت کے اجلاس میں گیارہ اہم فیصلے منظور ہوئے اور یورپی یونین صدر کے ساتھ بھی ملاقات انتہائی مفید رہی۔ اجلاس میں پاکستان کے علاقائی روابط اور توانائی کے شعبے میں مؤقف پیش کیا گیا اور جی ایس پی پلس سمیت دیگر امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے افغانستان میں استحکام ضروری ہے۔ انہوں نے افغان قیادت سے واضح کہا کہ پاکستانی سرزمین کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال نہ ہو۔ افغان قیادت سےکہاکالعدم ٹی ٹی پی کےخلاف کارروائی کریں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ امیر متقی نےکہاہم نےٹی ٹی پی کے کئی لوگوں کو جیل بھیج دیا، پاکستان نےافغانستان میں امن اور خوش حالی کیلئے جو کہا وہ کیا، پاکستان نےخطےمیں روابط بڑھانےکیلئےکوششیں کیں، افغانستان کی جانب سے انسداددہشت گردی سے متعلق وعدہ پورانہ ہوا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ امن ہی واحد راستہ ہے اور پاکستان نے افغانستان میں امن اور خوشحالی کے لیے جو اقدامات کیے وہ مکمل کیے گئے ہیں۔ افغان عبوری وزیراعظم نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے اپنے وعدے پورے کیے۔ 19 اپریل کو کابل کا دورہ انتہائی مفید رہا، حکام سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ریلوے معاہدوں پر دستخط کیے۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان نے خطے میں روابط بڑھانے، غربت میں کمی اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور افغانستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی پاکستان کی ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے آگاہ کیا اور اجلاس میں بھارت اور سندھ طاس معاہدے پر بھی گفتگو کی۔ چینی وزیر خارجہ کی تجویز پر سہ فریقی اجلاس کابل میں رکھنے پر پاکستان نے مکمل اتفاق کیا، تاہم افغانستان کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت ابھی نظر نہیں آئی۔

Read Comments