اپ ڈیٹ 29 نومبر 2025 07:42pm

ٹرمپ نے وینزویلا کی فضائی حدود کو ’نو فلائی زون‘ قرار دے دیا

امریکا اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ کا ایک اور بیان سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کی فضائی حدود اب مکمل طور پر بند ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ‘وینزویلا کے اوپر اور اردگرد کی فضائی حدود کو مکمل طور پر بند سمجھا جائے۔

اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ‘تمام ایئرلائنز، پائلٹس، منشیات فروشوں اور انسانی اسمگلروں کے لیے پیغام ہے کہ وہ وینزویلا کے اوپر اور اردگرد کی فضائی حدود کو پوری طرح بند سمجھیں۔’


صدر ٹرمپ کا حالیہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے کیریبین سمندر میں فوج کو تعینات کر رکھا ہے، جس میں جنگی بحری جہازوں سمیت دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس تعیناتی کا مقصد سمندری راستوں سے منشیات کی اسمگلنگ روکنا ہے۔ تاہم وینزویلا کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اِن اقدامات کا اصل مقصد انکی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔

وینزویلا صدر کی کون سی پیشکش ٹرمپ کو حملے سے روک سکتی ہے؟

اس سے قبل امریکی فضائی نگرانی کے ادارے (فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن) نے گزشتہ ہفتے ایئرلائنز کو انتباہ جاری کیا تھا کہ سیکیورٹی صورتِ حال اور فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث وینزویلا کے اوپر پرواز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

اس انتباہ کے بعد 6 ایئرلائنز نے وینزویلا کے لیے پروازیں معطل کر دی تھیں، جواب میں وینزویلا نے ان تمام ایئرلائنز کے آپریٹنگ حقوق منسوخ کر دیے تھے۔ ان ایئرلائنز میں اسپین، پرتگال، کولمبیا، چلی، برازیل اور ترکیہ کی ایئرلائنز شامل ہیں۔

وینیزویلا کی حکومت نے کہا کہ یہ پابندی اس لیے لگائی گئی ہے کیونکہ یہ کمپنیاں امریکی حکومت کی طرف سے کیے گئے ریاستی دہشت گردی کے اقدامات میں شامل ہوئیں۔

Read Comments