ہانگ کانگ میں مہلک آگ کے بعد تعمیراتی غفلت اور کرپشن کی تحقیقات شروع
تائی پو کے رہائشی کمپلیکس وانگ فُک کورٹ میں لگی آگ نے آٹھ میں سے سات ٹاورز کو لپیٹ میں لے کر 128 جانیں لے لیں، جبکہ تقریباً 150 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق آگ اسکیفولڈنگ جالی سے بھڑکی اور غیر محفوظ فوم پینلز نے شعلوں کو عمارتوں میں تیزی سے پھیلایا۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کے مطابق ہانگ کانگ کے مضافاتی علاقے تائی پو میں واقع رہائشی کمپلیکس وانگ فُک کورٹ میں بدھ کے روز لگنے والی شدید آگ، جس میں کم از کم 128 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، نے تعمیراتی و مرمتی کاموں میں غفلت اور بدعنوانی کے سنگین شبہات کو جنم دے دیا ہے۔
آگ دوپہر کے وقت بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے آٹھ میں سے سات رہائشی ٹاورز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کمپلیکس میں 4,800 سے زائد لوگ رہائش پذیر تھے، جن میں سے بعض رہائشی گزشتہ ایک سال سے مرمتی کام میں استعمال ہونے والے موادخصوصاً اسکیفولڈنگ جالی کے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے آرہے تھے۔
پولیس نے ابتدائی طور پر ایک تعمیراتی کمپنی کے تین ملازمین کو غیرارادی قتل اور سنگین غفلت کے شبہ میں گرفتار کیا۔ بعد ازاں مزید سات مردوں اور ایک خاتون کو بھی حراست میں لیا گیا جن میں ذیلی ٹھیکیدار، انجینئرنگ کنسلٹنسی کے ڈائریکٹرز اور منصوبے کے نگران شامل ہیں۔ یہ کارروائیاں کرپشن کی وسیع تفتیش کا حصہ ہیں۔
اگرچہ پولیس نے کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم ہاؤس اونرز ایسوسی ایشن کی دستاویزات کے مطابق مرمتی کام کی ذمہ دار کمپنی پریسٹیج کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ تھی۔ پولیس نے کمپنی کے دفاتر سے ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا۔
حکام کے مطابق آگ سب سے پہلے عمارت کی زیریں منزلوں کی اسکیفولڈنگ جالی میں لگی اور بعدازاں کھڑکیوں پر نصب فوم پینلز نے شعلوں کو اندرونی حصوں میں تیزی سے پھیلا دیا، جس سے شیشے ٹوٹ گئے اور آگ شدت اختیار کرتی گئی۔
لیبر ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ انہیں گزشتہ سال سے مواد کے معیار کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوئیں اور انہوں نے 16 معائنے کیے جن میں ٹھیکیداروں کو حفاظتی معیارات پر عمل کی تحریری ہدایات بھی دی گئیں۔
اسی کمپنی کو ماضی میں بھی تعمیراتی ضابطوں کی خلاف ورزی پر 30 ہزار ہانگ کانگ ڈالر جرمانہ ہو چکا ہے۔ سال 2023 میں بھی تین مختلف موقعوں پر اس پر سزائیں عائد کی گئی تھیں۔
فائر سروسز کے مطابق آگ کو مکمل طور پر بجھانے میں 40 گھنٹے لگے۔ 79 افراد زخمی ہوئے جن میں 12 فائر فائٹر شامل تھے جبکہ ایک اہلکار شہید ہوا۔ دو دن بعد بھی عمارتوں کے جلے ہوئے ڈھانچوں سے دھواں اٹھتا رہا۔
حکام نے بتایا کہ برآمد شدہ 128 لاشوں میں سے 44 کی شناخت باقی ہے جبکہ 150 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ہلاک شدگان میں انڈونیشیا کی دو گھریلو ملازمائیں بھی شامل ہیں اور 11 دیگر کارکنوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
پورے شہر میں سوگ منایا جا رہا ہے۔ جگہ جگہ سفید گلاب اور کنول کے پھول رکھے جا رہے ہیں، جبکہ سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہیں۔
ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے حکومتی ہیڈکوارٹرز میں تین منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے تعزیت کا اظہار کیا۔
یہ آگ ہانگ کانگ کی کئی دہائیوں میں سب سے ہلاکت خیز حادثہ ثابت ہوئی ہے۔