شائع 29 نومبر 2025 01:16pm

انسانوں کو ایک ساتھ کھانا کیوں پسند ہے؟

صدیوں سے انسانی معاشرے میں چھوٹے گروپوں کی شکل میں جمع ہو کر کھانے کا رواج رائج ہے۔ یہ روایت کیوں اتنی اہم ہے اور ہم اسے آج بھی کیوں جاری رکھتے ہیں؟ اس کا جواب صرف جسمانی ضرورت میں نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی تعلقات میں بھی پوشیدہ ہے۔

جب لوگ اکٹھا ہو کر کھانا کھاتے ہیں، تو یہ نہ صرف توانائی کا ذریعہ ہوتا ہے بلکہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور ایک دوسرے کو قریب لانے کا ایک بہانہ بھی ہے۔ کھانے کے اوقات میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے، اپنے تجربات شیئر کرنے اور اجتماعی سکونت کا احساس ہونے کا موقع ملتا ہے۔

رنگین کانٹیکٹ لینس لگانے والی خواتین پہلے یہ خطرناک حقیقت جان لیں

آج بھی یہ روایت اسی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ ہمیں معاشرتی ربط اور کمیونٹی کا احساس دیتی ہے، جو جدید دنیا میں بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی قدیم زمانوں میں تھی۔

بی بی سی ایک رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ تحقیق میں 2017 میں کی گئی ایک اسٹڈی کا جائزہ لیا گیا جس کا نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ جب لوگ ایک ساتھ کھانے کے لیے بیٹھتے ہیں تو ان کی زندگی کی خوشی اور دیگر افراد کے ساتھ رشتہ داری میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں، برطانیہ کے رہائشیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ وہ کتنی بار دوسروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور ان کے جوابات سے یہ بات سامنے آئی کہ باقاعدگی سے دوسروں کے ساتھ کھانا کھانے والوں کی زندگی میں زیادہ اطمینان اور زیادہ دوست تھے جن پر وہ بھروسہ کر سکتے تھے۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر روڈریگ ڈنبار نے بتایا کہ ”کھانے کا عمل دماغ کے اینڈورفین سسٹم کو متحرک کرتا ہے، جو بندھن بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر انسانوں اور پرائمٹس میں۔“

ان کا کہنا ہے کہ، ”جب گروپ کی صورت میں ایک ساتھ کھانا کھایا جاتا ہے، تو اینڈورفین کا اثر اسی طرح بڑھتا ہے جیسے لوگ ایک ساتھ دوڑتے ہیں۔“ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ساتھ کھانا کھانا اجتماعی تعلقات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

کھانے کا عمل صرف خوشی اور تعلقات تک محدود نہیں ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگر دو افراد ایک ساتھ کھاتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔

تاہم ایسا ہمیشہ ایک مثبت تجربہ نہیں ہوتا۔ جب زیادہ مقدار میں کھانا ایک گروپ کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے، تو یہ عمل کبھی کبھار طاقت کی علامت بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب ایک زمین دار اپنے مزدوروں کو بڑے پیمانے پر کھانا فراہم کرتا ہے، یا ایک آفس پارٹی میں مالک کی سخاوت یا کمی کو اس کے ملازمین کے ذریعے پرکھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، خاندانوں میں باقاعدگی سے کھانے بھی ہمیشہ خوشگوار نہیں ہوتے، جہاں کسی کا مقام یا فیصلہ بار بار تنقید کا شکار ہوتا ہو، وہاں یہ تجربہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔

افغانستان کا ’اصل چہرہ‘ دنیا کو دکھانے والا برطانوی یوٹیوبر 3 گھنٹے میں واپس

اگرچہ زیادہ تر لوگ دوسروں کے ساتھ کھانا کھانے کو پسند کرتے ہیں، لیکن کچھ افراد اکیلے کھانے کو بھی اتنا ہی آرام دہ سمجھتے ہیں۔ نیومن کے جاری تحقیقی منصوبوں میں، سوئیڈن کے بزرگوں کے درمیان اکیلے کھانے کے بارے میں دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں۔

ان میں سے بیشتر بزرگوں نے کہا کہ انہیں اکیلے کھانے میں کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی۔ نیومن کے مطابق، ”اگر آپ عموماً دوسروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، تو کبھی کبھار اکیلے بیٹھ کر کھانا کھانا بھی ضروری ہوتا ہے۔“

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کھانے کا تجربہ ہمیشہ اجتماعی طور پر بہترنہیں ہوتا، کبھی کبھار یہ وقت خود کو ری چارج کرنے اور ذاتی سکون حاصل کرنے کا وقفہ بھی ہوتا ہے۔

Read Comments