افغانستان کے ساتھ جنگ بندی مؤثر نہیں رہی: دفتر خارجہ
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جمعہ کو واضح کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ موجودہ جنگ بندی قائم نہیں رہی۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعہ کو میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ یہ جنگ بندی روایتی طور پر دو لڑائی میں مصروف ممالک کے درمیان نافذ نہیں کی گئی تھی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد پاکستان میں حملے نہ کریں۔ لیکن اس جنگ بندی کے بعد بھی بڑے پیمانے پر دہشتگردانہ حملے ہوئے، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ بندی مؤثر نہیں رہی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی فوجی تیاری مضبوط ہے اور جو بھی سیکیورٹی چیلنجز آئیں گے، انہیں سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تاجکستان میں دہشتگرد حملے کے بعد طالبان حکومت نے کچھ عناصر پر الزام لگایا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ یہ عناصر افغان سرزمین پر موجود ہیں، اور چونکہ طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ اِن کے پاس پورے ملک پر کنٹرول ہے، اس لیے انہیں ان عناصر پر قابو پانا چاہیے۔
خیبرپختونخوا کے بڑے رقبے پر بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے کارروائی
دفترِ خارجہ نے افغان طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں داعش کی موجودگی کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ دعویٰ ”افسانوی“ ہے اور افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردی کے مسئلے کو پاکستان کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے۔
ترجمان نے بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی کے تحت ڈیٹا شیئرنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے معاملے پر بھی بات کی، جو ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی اسلام آباد آمد سے پہلے ہونے والی بات چیت میں زیر بحث آیا تھا۔ پاکستان اور ایران دونوں اس مسئلے کو دوطرفہ طور پر حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ملکی سالمیت، سیکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: فیلڈ مارشل
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان، چین اور تاجکستان کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف تعاون جاری رکھے ہوئے ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر بھی مل کر کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مشترکہ اقدامات کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشتگردی قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے فلسطین کے معاملے پر کہا کہ پاکستان نے غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کی اور فلسطین میں مستقل ریاست قائم کرنے کے مقصد کے لیے سیاسی عمل میں حصہ لے رہا ہے۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی اور روسی وفود نے گزشتہ دو دنوں میں اسلام آباد میں تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں اور دونوں جانب سے گہرائی میں مذاکرات ہوئے ہیں۔