شائع 29 نومبر 2025 08:30am

آکسفورڈ مباحثہ: پاکستان نے دلائل کی جنگ میں بھی بھارت کو ہرا دیا

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے بڑے مباحثے میں پاکستانی طلبا نے بھرپور دلائل کے ساتھ میدان مار لیا۔ ووٹنگ کے نتیجے میں پاکستانی وفد نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 106 ووٹ لیے، جبکہ بھارتی ٹیم صرف 50 ووٹ حاصل کر سکی۔ اس طرح پاکستانی طلبا نے دو تہائی اکثریت سے تاریخی فتح اپنے نام کی۔

یہ مباحثہ ایک اہم قرارداد پر منعقد ہوا جس کے مطابق ”بھارت کی پاکستان پالیسی دراصل عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمتِ عملی ہے، جسے سیکیورٹی پالیسی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے“۔ پاکستانی طلبا نے اس قرارداد کا بھرپور دفاع کیا اور بھارتی نمائندوں کے دلائل کو منطق، قانون اور ٹھوس اعدادوشمار کی بنیاد پر چیلنج کیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت نے ابتدا میں مباحثے کے لیے اپنے بڑے نام سابق آرمی چیف جنرل نروانے، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور سچن پائلٹ کو نامزد کیا تھا، مگر وہ سب شرکت سے دستبردار ہو گئے۔ بعد ازاں بھارتی وفد نسبتاً کم درجہ مقررین جے سائی دیپک، پنڈت ستیش شرما اور دیورچن بنرجی پر مشتمل پینل کے ساتھ میدان میں اترا۔

پاکستان نے فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے کسی اعلیٰ سطح کے حکومتی نمائندے کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور آکسفورڈ میں زیرِ تعلیم تین پاکستانی طلبا موسیٰ ہراج، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز خان کو پورے اعتماد کے ساتھ نمائندگی دی۔

مباحثے کے دوران پاکستانی طلبا نے بھارتی وفد کے سولائزیشنل اور مذہبی بیانیے کو ٹھوس دلائل کے ساتھ رد کیا۔

ان کی مدلل گفتگو نے حاضرین کو قائل کیا اور ووٹنگ میں یہی برتری نمایاں رہی۔ دو تہائی اکثریت سے پاکستان کے مؤقف کے حق میں فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ بھارتی میڈیا بھلے شور مچائے، مگر علمی سطح پر پاکستان کے مضبوط دلائل کے سامنے اس کا مقابلہ نہیں۔

اس کامیابی نے نہ صرف پاکستانی طلبا کا قد بڑھایا بلکہ عالمی سطح پر دلائل کی جنگ میں بھی پاکستان کا بیانیہ مضبوطی سے ابھرا ہے۔

Read Comments