شائع 29 نومبر 2025 08:21am

ٹرمپ کا ’آٹو پین سے دستخط شدہ‘ بائیڈن کے تمام احکامات ختم کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے تمام ایگزیکٹو آرڈرز منسوخ کر رہے ہیں جن پر سابق صدر جو بائیڈن نے خود دستخط نہیں کیے، بلکہ وہ ایک مشین یعنی ”آٹو پین“ سے سائن کیے گئے تھے۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ بائیڈن اپنے دورِ صدارت کے دوران دفتری معاملات میں براہِ راست شامل ہی نہیں تھے۔

ٹرمپ نے ہفتے کو اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ ”جو بائیڈن نے تقریباً 92 فیصد دستاویزات آٹو پین کے ذریعے سائن کروائیں۔ جو بھی دستاویز ان کے ہاتھ سے براہِ راست سائن نہیں ہوئی، میں اسے فوری طور پر منسوخ کرتا ہوں۔“

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آٹو پین کا استعمال قانون کے مطابق صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب صدر خود اس کی اجازت دے۔

ٹرمپ نے الزام لگایا کہ بائیڈن کے اردگرد موجود ”ریڈیکل لیفٹ“ عناصر نے انہیں صرف ایک علامتی صدر بنا رکھا تھا اور وہ ان کے نام سے فیصلے کرتے تھے۔

واشنگٹن فائرنگ: امریکا کا گرین کارڈز سے متعلق سخت پالیسی کا اعلان

ٹرمپ نے کہا کہ اگر بائیڈن یہ دعویٰ کریں کہ وہ خود اس عمل میں شامل تھے تو ان پر حلفیہ جھوٹ بولنے (پرجرری) کا مقدمہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم ٹرمپ نے اپنے ان تمام الزامات کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ جبکہ بائیڈن اور ان کے سابق معاونین پہلے ہی اس بات کی سختی سے تردید کر چکے ہیں کہ صدر بائیڈن کو ان کے اختیارات سے دور رکھا گیا یا ان کی جانب سے فیصلے کسی اور نے کیے۔

جون میں اپنے ایک بیان میں بائیڈن نے کہا تھا کہ ”میں نے اپنے دورِ صدارت میں تمام فیصلے خود کیے۔ چاہے وہ ایگزیکٹو آرڈرز ہوں، معافیاں ہوں، قانون سازی ہو یا صدارتی اعلانات۔ یہ کہنا کہ میں نے فیصلے نہیں کیے، بالکل بے بنیاد ہے۔“

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ٹرمپ بھی اپنے دور میں آٹو پین استعمال کرتے رہے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسے صرف ”غیر اہم کاغذات“ کے لیے استعمال کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس فائرنگ: ٹرمپ کا غریب ممالک پر امریکا کے دروازے بند کرنے کا اعلان

رواں سال کے اوائل میں ٹرمپ نے اوول آفس میں لگی بائیڈن کی تصویر ہٹا کر اس کی جگہ ایک آٹو پین کی تصویر لگا دی تھی جو بائیڈن کے نام کے دستخط کر رہا تھا۔

Read Comments