ایشیز سیریز: 2 روز میں ختم ہونے والے پرتھ ٹیسٹ میچ کی پچ کو کلین چٹ مل گئی
ایشیز سیریز کے دوران 2 روز میں ختم ہونے والے پرتھ ٹیسٹ میچ کی پچ کو کلین چٹ مل گئی، ایشیز سیریز میں137 برسوں میں پرتھ ٹیسٹ سب سے جلد ختم ہونے والا ٹیسٹ تھا جس دوران میچ کے پہلے روز 19 وکٹیں گری تھیں۔
کرکٹ کی ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان پرتھ میں کھیلے گئے 2 روزہ ایشیز ٹیسٹ کی پچ کو آئی سی سی نے انتہائی اعلیٰ درجہ بندی دیتے ہوئے ’بہت اچھی‘ قرار دے دیا۔ یہ میچ صرف دو دن میں مکمل ہوا تھا، جس میں پہلی ہی روز 19 وکٹیں گری تھیں۔
پرٹھ اسٹیڈیم کی پچ کو میچ ریفری رنجن مدوگالے کی رپورٹ میں ”ویری گڈ“ قرار دیا گیا۔ آئی سی سی کے 4 درجاتی سسٹم کے مطابق یہ درجہ بندی اُس پچ کے لیے ہوتی ہے جس میں سیم موومنٹ کم، باؤنس تسلسل کے ساتھ ہو اور بیٹرز اور بولرز دونوں کے لیے مقابلہ متوازن رہے۔
847 گیندوں میں مکمل ہونے والا یہ میچ آسٹریلیا کی سرزمین پر دوسرا سب سے کم گیندوں میں ختم ہونے والا ٹیسٹ رہا، جبکہ 1888 کے بعد یہ سب سے مختصر ایشیز ٹیسٹ تھا۔
میچ میں فاسٹ بولنگ کا غلبہ رہا۔ آسٹریلیا کے مچل اسٹارک نے 58 رنز کے عوض 7 وکٹیں حاصل کیں جب کہ انگلینڈ کے بین اسٹوکس نے 5 کھلاڑی آؤٹ کیے۔ انگلینڈ اپنی دوسری اننگز میں 105 رنز کی برتری بنا چکا تھا کہ اسکاٹ بولینڈ نے اہم وکٹیں حاصل کیں۔
205 رنز کا ہدف آسٹریلیا نے 29 اوورز میں ہی حاصل کر لیا۔ ٹریوس ہیڈ نے 83 گیندوں پر 123 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلتے ہوئے میچ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
آسٹریلوی کپتان اسٹیون اسمتھ نے کہا کہ پچ دوسرے دن کے اختتام تک بہتر ہو چکی تھی، جیسا کہ گزشتہ سال بھارت کے خلاف ٹیسٹ میں بھی دیکھا گیا تھا۔
کرکٹ آسٹریلیا کے چیف آف کرکٹ جیمز السوپ نے کہا کہ ’’میچ ریفری کی درجہ بندی اس بات کی تصدیق ہے کہ پچ نے بیٹ اور بال کے درمیان توازن فراہم کیا۔‘‘ انہوں نے اعتراف کیا کہ میچ کے جلد ختم ہونے سے کچھ شائقین کو مایوسی ہوئی تاہم انہیں یقین ہے کہ اس میچ نے شائقین کو محظوظ کیا۔
پرتھ ٹیسٹ کے دو دن میں مکمل ہونے کے باعث کرکٹ آسٹریلیا کو 30 سے 40 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک کا مالی نقصان ہونے کا امکان ہے۔
اگلے ہفتے سے شروع ہونے والے برسبین کے ڈے نائٹ ٹیسٹ کی پچ میں بھی خاص دلچسپی پائی جا رہی ہے۔ گابا کے کیوریٹر ڈیو سینڈرسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ پچ پانچ دن تک اچھی رہے گی اور تمام کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔
2022-23 میں اسی گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کے خلاف دو روزہ ٹیسٹ ہوا تھا، جسے اس وقت کے سسٹم کے تحت ’اوسط سے کم‘ قرار دیا گیا تھا۔ البتہ بعد کے میچز میں پچ سے متعلق کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔