شائع 13 مارچ 2025 09:02am

ایچ آر مینیجر کا انوکھا فراڈ، 8 سال تک 22 ملازمین کی تنخواہیں خود کیسے ہڑپیں؟

چین میں ایک شاطر ہیومن ریسورس (ایچ آر) مینیجر کی جانب سے 22 فرضی ملازمین بنا کر آٹھ سال تک کمپنی سے تنخواہیں وصول کرنے کا حیران کن فراڈ سامنے آیا ہے، جس نے اس اسکیم کے ذریعے کمپنی کے 1 کروڑ 60 لاکھ یوان (تقریباً 58 کروڑ پاکستانی روپے) تنخواہوں اور واجبات کی مد میں ہڑپ لیے۔

یہ فراڈ اس وقت بے نقاب ہوا جب ایک ”انتہائی محنتی“ مگر غیر موجود ملازم پر شبہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ جعلساز، جس کا نام یانگ بتایا جا رہا ہے، شنگھائی میں ایک لیبر سروسز کمپنی میں کام کر رہا تھا اور مزدوروں کی تنخواہوں کا حساب کتاب سنبھالتا تھا۔

عالمی عدالت کے وارنٹ پر فلپائن کے سابق صدر گرفتار

جب یانگ کو معلوم ہوا کہ کوئی تنخواہ کا آڈٹ نہیں ہو رہا اور وہ ملازمین کے ریکارڈز پر مکمل اختیار رکھتا ہے، تو اس نے ”سن“ کے نام سے ایک فرضی ملازم بنا لیا اور اس کی تنخواہ اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرنا شروع کر دی۔ جب کمپنی نے سن کو ادائیگی نہ ہونے کی شکایت کی، تو یانگ نے الزام ٹیک کمپنی پر ڈال دیا کہ وہ تنخواہیں وقت پر جاری نہیں کر رہی۔

اگلے آٹھ سالوں میں، یانگ نے مزید 21 جعلی ملازمین بنا لیے، جن کے حاضری ریکارڈ ہمیشہ بہترین رہے اور ان کی تنخواہیں وقت پر جاری ہوتی رہیں۔

ماں کے آئسکریم کھانے پر بیٹے نے پولیس کو بلا لیا

یہ دھوکہ دہی 2022 میں اس وقت پکڑی گئی جب ٹیک کمپنی کے مالیاتی شعبے کو سن کے بارے میں شک ہوا۔ وہ وقت پر تنخواہ لے رہا تھا، مگر کسی نے اسے کبھی دفتر میں نہیں دیکھا تھا۔ جب تنخواہوں اور بینک لین دین کی چھان بین کی گئی، تو یہ بڑا اسکینڈل سامنے آگیا۔

یانگ کو گرفتار کر لیا گیا اور 10 سال 2 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا اور اسے ایک سال کے لیے سیاسی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا۔

Read Comments