ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے حماس سے براہ راست رابطہ کرلیا، امریکی میڈیا کا انکشاف
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے امریکی حکومت نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے براہ راست رابطہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اور حماس کے عہدیداروں نے قطر میں غزہ کی پٹی میں قید یرغمالیوں کے بارے میں بات چیت کی ہے، جو امریکی پالیسی کے طویل عرصے سے جاری اصول کے برخلاف ہے جس میں شدت پسند گروپ کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کیا گیا تھا، ایک اسرائیلی عہدیدار اور ایک سفارتکار نے اس معاملے پر بریفنگ دی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی برائے یرغمالیوں کے امور ایڈم بوہلراس ہفتے حماس کے عہدیداروں کے ساتھ بات چیت میں شریک ہوئے۔
سفارتکار نے بتایا دونوں افراد نے ملاقاتوں کے بارے میں اس شرط پر بات کی کہ ان کی شناخت ظاہر نہ کی جائے کیونکہ انہیں اس حساس سفارتکاری کے بارے میں عوامی طور پر بات کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق بات چیت کے دائرہ کار کا فوری طور پر پتا نہیں چل سکا، لیکن ثالثین اس وقت اسرائیل اور حماس کے درمیان موجودہ جنگ بندی کو مزید بڑھانے اور غزہ میں باقی یرغمالیوں کو آزاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی غزہ پالیسی صدر بائیڈن کی پالیسی سے یکسر مختلف رہی ہے۔ ٹرمپ کئی بار حماس کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکیوں سمیت غزہ کو امریکی کنٹرول میں لینے کی تجویز بھی دے چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حماس کے قبضے میں اب بھی 59 یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے 35 کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 22 کے زندہ ہونے کا امکان ہے، یرغمالیوں میں 5 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔
یہ خفیہ بات چیت، جس کی تصدیق سب سے پہلے Axios نے کی ہے اس ان رابطوں کے حوالے سے معلومات رکھنے والے دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت اور حماس کے درمیان بات چیت غزہ میں موجود امریکی یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کے ایک وسیع تر معاہدے کے حوالے سے ہوئی ہے۔