خطرناک جانوروں سے بھرے آسٹریلیا کے باشندے صرف ایک پرندے سے خوفزدہ کیوں؟
خطرناک جانوروں سے بھرے آسٹریلیا کے باشندے صرف ایک پرندے سے خوفزدہ کیوں ہیں؟
جب آپ ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ہر قسم کے زہریلے سانپ اور مکڑی انسان کے لیے خطرناک جانی جاتی ہیں، ایسے میں ڈراپ بیئر کے نام سے مشہور شکاری کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگا۔
کیسووری ایسا پرندہ ہے جو آسٹریلیا کے شہریوں کے دل میں خوف پیدا کرتا ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے پرندوں میں سے ایک ہے، اور یہ کسی ارضیاتی دور کے آثار کی طرح لگتا ہے۔
کیسووری چمکدار سیاہ پروں اور چھیدنے والی آنکھیں رکھتا ہے، دو پاؤں پر چلنے والا خطرناک پرندہ 140 پاؤنڈ تک وزنی ہوسکتا ہے، اس کا ہر پاؤں پر خنجر جیسا لگتا ہے۔
پاپوا نیو گنی کے جنگلات میں کیسووریوں کا مطالعہ کرنے والے 5 سال گزارنے والے اینڈریو میک کہتے ہیں کہ کیسووری زندہ ڈائنو سار کی طرح نظر آتے ہیں۔
کیسووری بغیر پرواز کا بڑا پرندہ ہے اور اس نے ”دنیا کا سب سے خطرناک پرندہ“ ہونے کا مشکوک اعزاز بھی حاصل کر رکھا ہے۔
اس کا مشہور فلائٹ لیس کزن ایمو، آسٹریلیا کی قومی علامتوں میں سے ایک ہے۔ کیسووری زیادہ تر گہرے برساتی جنگل میں رہتے ہیں جہاں ان کا انسانوں سے سامنا ہونے کا امکان کم ہوتا ہے، تاہم اب یہ پرندہ خطرات سے دوچار ہے۔
ڈرامائی شکل کے لیے مشہور کیسووری برساتی جنگل کے ماحولیاتی نظام کے اہم حصے بھی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے فروگوور (پھل کھانےوالے) کے طور پر بھی مشہور ہیں۔
کیسووری روزانہ درجنوں پھل کھاتے اور پھر انہیں باہر بھی نکال دیتے ہیں، جس سے ان پھلوں کے بیجوں کو پورے جنگل میں پھیلنے اور دوبارہ اگنے میں مدد ملتی ہے۔
یہ جانوروں کی نایاب نسلیں بھی ہیں، جہاں زیادہ تر نر بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ مادہ کیسووریز انڈے دے کر گھونسلہ چھوڑ دیتی ہیں، نر انڈوں کو سیتے ہیں اور پھر اپنے چوزوں کی پرورش کرتے ہیں۔
انسانوں اور کیسووریوں کے درمیان اب تک صرف کچھ ملاقاتیں اس وقت ہوئیں جب کوئی انسان اس کے بہت قریب آیا، اس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اس کی خطرناک پرندے کی یادگار تصاویر بھی بنانے میں بھی کامیاب ہوسکا۔